اسلامی جہاد
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون (التوبہ (١١) يا فاذا انسلخ الاشهر الحرم فاققتلوا المشركين (التوبہ ۵) يا فان قاتلوكم فاقتلوهم (البقرہ ۱۹۱) يا ان الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفاً (الصف (۴) يا وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة (البقرہ ۱۹۳) وغيرہ۔ قرآن میں جن آیتوں میں بھی جہاد کا حکم آیا ہے، وہاں جہاد سے یا تو غیر حربی میدان کی جدوجہد مراد ہے، مثلاً الفرقان (آیت (۵۲) جس میں جہاد سے مراد دعوتی و تبلیغی جہاد ہے۔ یا اگر جنگی نوعیت کے جہاد کا حکم ہے تو وہ عمومی جہاد کے تحت ہے، مثلاً التوبہ (آیت (۴۱) قرآن کے مطابق، جہاد میں جنگ کا عمل بھی شامل ہے مگر جنگی عمل ہی کا نام جہاد نہیں ہے۔ جہاد بمعنی قتال جنگ کی دو قسمیں ہیں: جارحانہ اور دفاعانہ۔ مثلاً غزوہ اُحد (۳ھ) کے موقع پر اہل مکہ نے ۳۰۰ میل سے آ کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو لے کر اہل مکہ کا مقابلہ کیا۔ اس مثال میں اہل مکہ کا اقدام جارحانہ تھا اور رسول اور اصحابِ رسول کا اقدام دفاعانہ۔ اسلام میں مخصوص شرائط کے تحت صرف دفاعانہ جنگ کی اجازت ہے۔ جارحانہ جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی فریق جارحیت کا آغاز کر دے تو اس کے بعد جارحانہ اور دفاعانہ کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اب فریق ثانی کے مخالفانہ عزائم کو توڑنے کے لئے اقدامی حملہ بھی حسب حالات جائز ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی مبینہ دشمن کے متعلق معلوم ہو کہ وہ تیاری کر رہا ہے اور وہ بہت جلد حملہ کرنے والا ہے تو ایسی صورت میں پیشگی اقدام جائز ہوگا اور وہ باعتبارِ حقیقت دفاع ہی سمجھا جائے گا۔ جنگ کے بارے میں اسلام کا یہ اصول قرآن کی متعدد آیتوں سے ثابت ہے۔ مثلاً سورة التوبہ (آیت (۱۳) میں مسلمانوں کو مشرک قوم کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا ہے، اور اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہی ہیں جنھوں نے پہلے جنگ کا آغاز کیا (و هم بدؤکم اول مرة)، اسی طرح دوسری جگہ مشرکوں سے جنگ کا حکم دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں: و قاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقرہ (۱۹۰)، اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کو جنگ کی اجازت دی جا رہی ہے جن کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے : اذن للذين

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader