Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

يقاتلون بانهم ظلموا (الحج ۳۹)، اسی طرح اہل ایمان کی یہ صفت بتائی کہ وہ ہمیشہ ظلم کے بعد کسی سے بدلہ لیتے ہیں: وانتصروا من بعد ما ظلموا ( الشعراء ۲۲۷) اس معاملہ میں اسلامی تعلیم کی آخری حد یہ ہے کہ جارحانہ جنگ چھبڑ نا تو درکنار ، جارحانہ جنگ چھیڑنے کی تمنا سے بھی منع کیا گیا ہے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتی ہے جس کو بخاری اور مسلم دونوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے : ایها الناس، لا تتمنوا القاء العدو واسألوا اے لوگو، تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو۔ الله العافية فال لقيتموهم فاضربوا اور اللہ سے عافیت مانگو۔ البتہ جب مڈبھیڑ ہو جائے واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف تو انھیں مارو۔ اور جان لو کہ (اس وقت) جنت (رياض الصالحين ، صفحه ۳۲۸) تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے۔ ایک جامع آیت قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اے ایمان لانے والو ، رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو اور تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اسی نے تم کو چنا ہے، اور اس نے دین کے معاملہ میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمھارے باپ ابراہیم کا دین اسی نے تمھارا نام مسلم رکھا ، اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی ، تاکہ رسول تمھارے اوپر گواہ بنے اور تم لوگوں کے اوپر گواہ بنو۔ پس تم نماز قائم کرو اور زکواۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوط پکڑو، وہی تمہارامالک ہے۔ پس کیسا اچھا مالک ہے اور کیسا اچھا مددگار ( الحج ۷۷- ۷۸) قرآن کے اس بیان پر غور کیجئے ۔ اس میں اہل ایمان کے لئے چار قسم کی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے خدا کی عبادت ، عمل خیر (عمل صالح )، اتحاد اور شہادت علی الناس ۔ ان چار احکام کے درمیان میں کہا گیا ہے کہ وجاهد وافي الله حق جهادہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے ) ان الفاظ اور اس ترتیب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا تعلق ان چاروں احکام سے ہے۔ ان چاروں احکام پر اپنے آپ کو کھڑا کرنے کے لئے مجاہدہ درکار ہے۔ اس کے لئے نفس کی خواہشوں کو دبانا ہے۔ اس کے لئے وقت اور مال خرچ کرنا ہے۔ اس کے لئے لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page