صراط مستقیم سے انحراف
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
صراطِ مستقیم سے انحراف وآن هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه اور کہدو کہ یہ میری سیدھی شاہراہ ہے، پس تم اسى ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو سبيله ذلكم وصاكم به لعلكم تتقون اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم (الانعام (۱۵۴) دیا ہے تاکہ تم بچو۔ یہ حکم قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر آیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ صراط مستقیم یا السبیل سے مراد خدا کا دین اسلام ہے، اور متفرق راستوں (سُبُل) سے مراد زندگی کے وہ راستے اور نظام ہیں جو انسان نے بطور خود وضع کئے ہوں۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ السبیل اور سُبُل دونوں سے مراد اسلام ہی کے طریقے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ السبیل سے مراد اصل دین ہے اور سُبُل سے مراد فروع دین۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم و دعوت میں سب سے زیادہ زور "السبیل" پر دیا جانا چاہئے نہ کہ "سُبُل" پر۔ راستوں میں ایک راستہ وہ ہوتا ہے جو سیدھا اور چوڑا ہو۔ ایسا راستہ السبیل یا صراط مستقیم ہے۔ اور دوسرے راستے وہ ہیں جو تنگ ہوتے ہیں اور اصل شاہراہ کے دائیں اور بائیں سے نکلتے ہیں۔ ان دوسرے راستوں کو سُبُل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح خدا کے دین کی ایک اصل اور اساس ہے۔ اور اس کے علاوہ اس کے کچھ فروع ہیں۔ اول الذکر کی حیثیت دین میں شاہراہ (صراط مستقیم) کی ہے، اور ثانی الذکر کی حیثیت اطراف کے راستوں (سُبُل) کی ۔ جو آدمی شاہراہ پر چلے وہ اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔ اور جو آدمی متفرق راستوں پر دوڑے وہ درمیان ہی میں بھٹک جائے گا، وہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح دین کا جو اصلی اور اساسی حصہ ہے وہ گویا دین کی شاہراہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اسی کو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنائے۔ اپنے قول و عمل میں وہ سب سے زیادہ اسی کا اہتمام کرے۔ اس کے بعد جو فروع دین ہیں وہ گویا اس کی سُبُل ہیں۔ اہل دین کو اس سے منع کیا گیا کہ وہ ان فروع پر زیادہ توجہ دینے لگیں۔ وہ اصل دین کے بجائے فروع دین کو اپنے لئے زور و تاکید کا موضوع بنالیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader