صراط مستقیم سے انحراف
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن عطیہ نے اتباع سُبل کی تشریح الشذوذ في الفروع (القرطبی، ۱۳۸) کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی اصولی چیزوں کے بجائے فروعی چیزوں کی طرف چل پڑنا۔ یہ نہایت صحیح تفسیر ہے۔ آجکل کی زبان میں اس کو تغیر تاکید (shift of emphasis) کہا جاسکتا ہے۔ تغیر تاکید (shift of emphasis) کیا ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سن لو، آدمی کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ ٹکڑا درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے، اور اس ٹکڑے میں خرابی آجائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو کہ گوشت کا یہ ٹکڑا انسان کا دل ہے (اَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ) یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ نظام (system) کے بگاڑ کا اصل سبب فرد (individual) کا بگاڑ ہے۔ اب اگر نظام میں بگاڑ پیدا ہو اور اس کے بعد لوگ ایسا کریں کہ وہ نظام کی اصلاح کے نام پر نظام سے ٹکرانے لگیں تو یہ اتباعِ سُبل کی مثال ہوگی۔ اور اگر نظام کے بگاڑ کی اصلاح کے لئے فرد کی درستگی پر زور دیا جائے تو یہ وہ مطلوب چیز ہوگی جس کو قرآن میں صراط مستقیم کا اتباع کہا گیا ہے۔ اہلِ ایمان کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ وہ اصولی چیزوں کو غیر اہم حیثیت دے دیں اور ان چیزوں پر زیادہ زور دینے لگیں جن پر حقیقتاً زیادہ زور نہیں دینا چاہئے۔ ایسا کرنے سے دین کا فوکس بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے درمیان ایسی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں جو بظاہر غیر اسلامی نہیں، ہوتیں ۔ مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ لوگوں کو حقیقی مطلوب الٰہی سے دور کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہ برائی اکثر ایک ”اور“ کے ذریعہ آتی ہے۔ یعنی ایک عطف (conjunction) کے ذریعہ اصل کے ساتھ فرع کو جوڑ لیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک مسلم جماعت اٹھی۔ اس نے ”اور“ کی تدبیر سے انقلاب کو ایمان کے ساتھ شامل کر دیا۔ اس نے ”ایمان اور انقلاب “ کا نعرہ دیا۔ اس جملہ میں ”اور“ بظاہر ایک سادہ سا عطف کا معاملہ ہے۔ مگر اس عطف نے پورے دین کا ڈھانچہ بدل دیا۔ اس نے سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader