صراط مستقیم سے انحراف
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
انقلاب کو وہ اہمیت دے دی جو فرد انسانی میں نفسیاتی انقلاب کی ہوتی ہے۔ حالاں کہ دونوں کی حیثیت دین میں یکساں نہیں۔ اس عطف کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے دین کا نقشہ بگڑ کر رہ گیا۔ دین میں ایمان کی حیثیت مطلوب اصلی کی ہے۔ اور سیاسی انقلاب کی حیثیت مطلوب اضافی کی۔ مگر اس عطف نے دونوں کو برابر کا درجہ دے دیا۔ بلکہ بگڑے ہوئے ذوق کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاست نے عملاً ہر دوسری چیز پر فوقیت حاصل کر لی۔ اس کے بعد سیاسی انقلاب کے لئے وہ دھوم مچا کی جانے لگی جس کا خدانے اہل ایمان کو مکلف نہیں کیا تھا۔ اور جب محسوس ہو اک شرعی حدود کے اندر حریف لیڈروں کا مقابلہ مشکل ہے تو اس کے بعد ایسے طریقے اختیار کئے گئے کہ خدا کا دین ایک کھیل بن کر رہ گیا۔ نعرے اور جھنڈے اور جلوس اور مظاہرہ کی سیاست کو پہلے گندا قرار دے کر اس کو قابل ترک بتایا گیا تھا مگر بعد کو پوری طرح اس کو اختیار کر لیا گیا۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ اسلامی حکومت معاشرہ کی تدریجی اصلاح کے ذریعہ بنتی ہے اور اب اچانک سیاسی انقلاب کا نظریہ اپنا لیا گیا۔ پہلے الیکشن میں امیدواری کے طریقہ کو ناجائز بتایا گیا تھا مگر اب اس کو عین جائز قرار دے لیا گیا۔ پہلے عورت کی حکمرانی کو غیر شرعی بتایا گیا تھا اور اب عورت کی حکمرانی کے حق میں شریعت سے فتویٰ حاصل کر لیا گیا۔ وغیرہ۔ اس قسم کی تمام خرابیاں جو اس تحریک کے اندر پیدا ہوئیں، ان کا اصل سبب وہی انحراف تھا جس کو قرآن میں اتباع سُبُل کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اتباع سبل کی ایک مثال وہ لوگ ہیں جو اسلامی دعوت کو ” ایمان اور احترام اکابر کی دعوت “ کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اسلام میں صحابہ کرام ، علماء عظام ، اکابر ملت، سب کا احترام ضروری ہے۔ ان میں سے کسی پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ ان کا صرف اتباع کیا جاسکتا ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ جہاں فل اسٹاپ تھا، وہاں انھوں نے کامالگا دیا۔ اصحاب رسول بلاشبہ تنقید سے بالا تر ہیں، ان کا مطلق احترام ضروری ہے۔ مگر رسول اور اصحاب رسول کے بعد اس معاملہ میں فل اسٹاپ لگا ہوا ہے۔ ان کے بعد کا مالگا کر کسی بھی گر وہ کو اس صف میں شامل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader