Urdu book · کاروانِ ملّت

صراط مستقیم سے انحراف

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا درست نہیں۔ اس معاملہ میں صحیح شرعی مسلک وہی ہے جو امام ابوحنیفہ سے منقول ہے۔ یعنی صحابہ کے بعد جو لوگ ہیں وہ بھی آدمی اور ہم بھی آدمی (ھم رجال ونحن رجال) "ایمان اور احترام اکابر" کے الفاظ میں اسلامی دعوت کی تعبیر اتباعِ سُبل کی سب سے زیادہ خطرناک صورت ہے۔ اس انحراف سے سادہ طور پر صرف ذہن کا فوکس نہیں بدلتا، بلکہ وہ آدمی کو شرک کے قریب پہنچا دیتا ہے۔ اسلام میں حُبّ شدید صرف اللہ کے لئے ہے، مگر یہ ذہن آدمی کی حُبّ شدید کارخ مزعومہ اکابر کی طرف کر دیتا ہے۔ اسلام میں غیر مشروط اتباع کا حق صرف اللہ کے رسول کے لئے ہے، مگر یہ ذہن آدمی کو اپنے اکابر کا غیر مشروط مُتبَع بنا دیتا ہے۔ اسلام میں صرف اللہ اور رسول کا کلام حجت کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس ذہن کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اکابر کے ملفوظات اور اقوال کو آخری محبت کا درجہ دے دیتا ہے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق ، اللہ نے صرف اپنے رسول کو معصوم عن الخطا کا درجہ دیا ہے، مگر اس ذہن کے لوگ اپنے خود ساختہ اکابر کو معصوم عن الخطا افراد کی فہرست میں شامل کر دیتے ہیں ۔ وغیرہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو اصلاحی تحریکیں اٹھیں ، وہ زیادہ تر " اتباعِ سُبل" کی اسی غلطی کا شکار رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکوں کی غیر معمولی دھوم کے با وجود ، ان سے حقیقی دینی نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا۔ غور کیجئے تو اتباعِ سُبل کی ان تمام مثالوں میں" عطف" کی مذکورہ تدبیر ہی کار فرما نظر آئے گی۔ کسی نے کہا کہ مسلمانوں کو دو چیزوں کی ضرورت ہے ـــــ " قرآن اور سائنس " بظاہر یہ ایک بے ضرر ترکیب ہے۔ مگر اس کا عطف درست نہیں۔ اس عطف نے سائنس کو قرآن کے مساوی قرار دے دیا۔ حالاں کہ سائنس خادم قرآن ہے نہ کہ مساوی قرآن ۔ کسی نے " ایمان اور عسکریت" کا نعوذبا یہ تسویہ بھی درست نہ تھا۔ کیوں کہ عسکریت ایمان کا مساوی حصہ نہیں ہے۔ وہ بوقت ضرورت دفاع کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ ایمان اصلی ہے اور عسکریت صرف ضمنی۔ ان چیزوں نے مسلمانوں کے فکر و عمل کا رخ ایسی سمت میں موڑ دیا جو سچے دین کی طرف جانے والا نہ تھا۔ " عطف" کے ذریعہ اتباعِ سُبل کی خرابی پیش آنے کی بے شمار صورتیں ہیں۔ مثلاً اگر آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page