Urdu book · کاروانِ ملّت

صراط مستقیم سے انحراف

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

تک پہنچاتا ہے ( هٰذَا صِرَاطٌ عَلَّيْ مُسْتَقِيمٌ ، الحجر ۱۶ ) ، اسی طرح فرمایا کہ اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے اور بعض راستے کج ہیں ( وَ عَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَ مِنْهَا جَائِرٌ ، النحل ۹ ) سیدھی شاہراہ اپنے مسافر کو بے روک ٹوک منزل تک پہنچا دیتی ہے ۔ لیکن اگر آدمی اطراف کی پگڈنڈیوں پر چل پڑے تو وہ اِدھر اُدھر بھٹک جائے گا ، وہ مطلوبہ منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسی تمثیل سے مذکورہ آیتوں میں دین کے معاملہ کو سمجھایا گیا ہے۔ دین کی اصل تعلیمات نہایت واضح ہیں۔ وہ سیدھی شاہراہ کی مانند ہیں۔ جو آدمی ان تعلیمات کو ان کی اصل صورت میں پکڑلے وہ ان پر چلتے ہوئے خدا تک پہنچ جائے گا۔ اور جو شخص فرعی مسائل اور خود ساختہ تعبیرات کو لے کر دوڑنے لگے ، وہ راستہ ہی میں بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ کبھی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ خدا کے دین میں کسی بھی قسم کی تبدیلی آدمی کو منحرف کر دیتی ہے ، وہ صحیح رخ کے بجائے غلط رخ پر چل پڑتا ہے ۔ حتی کہ دین میں معمولی قسم کا فرق کرنا بھی آخر کار بھیانک نتائج تک پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق اگر آپ لوگوں کو اقامت دین کی طرف بلائیں تو اس سے عمل کا صحیح رخ بنے گا ۔ لیکن اگر آپ اپنی خود ساختہ تشریح سے اقامت دین کو تنفیذ دین کے ہم معنی قرار دینے لگیں تو آپ کا سارا عمل غلط رخ پر پڑ جائے گا۔ حدیث کے مطابق ، اگر آپ محاسبہ نفس پر زور دیں تو اس سے صحیح دینی مزاج زندہ ہوگا ، لیکن اگر آپ محاسبہ نفس کے بجائے محاسبہ کائنات کا نعرہ لگانا شروع کر دیں تو ایسا نعرہ پورے دین میں خلل ڈالنے کا باعث بن جائے گا۔ اسی طرح محبت رسول کے لئے عشق رسول کا لفظ بولنا ، مسجد اقصیٰ کو بتانے کے لئے قبلہ اول کی زبان استعمال کرنا ، جہاد دین کے ساتھ جہاد حریت کا اضافہ کرنا ، مرنے والوں کے نام کے ساتھ " شہید " کا لفظ شامل کرنا ، اطاعت رسول کے بجائے حرمت رسول پر تقریر کرنا ، اتحاد ملی کے ساتھ غیرت ملی کی پکار بلند کرنا ، اور اس طرح کی دوسری تمام تبدیلیاں بلاشبہ بدعت اور اتباع سبل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ وہ آدمی کو بے راہ کرنے والی ہیں ، وہ ہدایت کے راستہ پر لے جانے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page