Urdu book · کاروانِ ملّت

صراط مستقیم سے انحراف

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح شہادتِ کلمہ کو تلفظِ کلمہ کے ہم معنی بتانا ، اطاعت الہی کو حکومتِ الہیہ بنا کر پیش کرنا، عبادت میں خشوع پر زور دینے کے بجائے فضائل اور مسائل پر زور دینا، ایمان اور تقویٰ کے پیغام کو ایمان اور یقین کا پیغام بتانا ، غیر مسلموں کو دعوت کے بجائے جہاد کا موضوع قرار دینا، مسلمانوں کی داخلی خرابیوں کے نام پر خارجی احتجاج کے ہنگامے برپا کرنا ، وغیرہ ۔ یہ سب کی سب دین کی شاہراہ سے ہٹ کر متفرق راستوں میں دوڑنے کی صورتیں ہیں ۔ ایسی ہر سرگرمی صرف ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے ، وہ ہدایت اور فلاح کی طرف لے جانے والی نہیں۔ خدا کے دین کو اس کی خالص صورت میں لیا جائے تو وہ آدمی کو خدا تک پہنچاتا ہے۔ اور اگر خدا کے دین میں تبدیلی کرکے اس کو اختیار کیا جائے، تو یہ تبدیلی خواہ بظاہر کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، وہ آدمی کو صحیح راستہ سے بھٹکا کر خدا سے دور کرنے کا سبب بن جائے گی۔ حدیث میں یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ پچھلی امتوں میں بعد کے زمانہ میں بگاڑ آیا ، اسی طرح امت مسلمہ پر بھی بعد کے زمانہ میں بگاڑ آئے گا۔ تا ہم یہ بگاڑ کبھی اس معنی میں نہیں آتا کہ امت کے افراد دین کو بالکل چھوڑ دیں۔ وہ ہمیشہ اُس صورت میں آتا ہے جس کو قرآن میں اتباع صراط کے بجائے اتباع مُسُبُل کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی لوگوں کے نزدیک اصول دین کا غیر اہم بن جانا ، اور ان کے درمیان فروع دین کا اہمیت اختیار کر لینا ۔ امت کے زوال اور بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ فروع دین پر زور بڑھ جاتا ہے اور کلیات دین کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں کرنے کا کام یہ ہے کہ دین کی کلیات کو زندہ کیا جائے۔ سارا زور لوگوں کے اندر اساسی باتیں بیدار کرنے پر دیا جانے لگے۔ دین کی اساس کو زندہ کیا جائے تو اس کی فروع اپنے آپ زندہ ہو جائیں گی۔ لیکن اگر فروع کو زندہ کرنے پر سارا زور دیا جانے لگے تو لوگوں میں کچھ ظاہری چیزیں تو پیدا ہو سکتی ہیں، مگر حقیقی دین کا اس طرح زندہ ہونا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page