الامر بالمعروف والنہی عن المنکر
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
الامر بالمعروف والنہی عن المنکر عبد الحکیم انصاری ایم اے سرائیر (ضلع اعظم گڑھ) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنے وطن قصبہ سرائیر کے بارہ میں بتایا کہ ۱۹۴۷ کے انقلاب سے پہلے کی بات ہے۔ وہاں ہمارے محلہ کی مسجد میں لیموں کا ایک درخت تھا۔ وہ خوب پھلتا تھا۔ صبح کو جب ہم لوگ فجر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوتے تو ہم دیکھتے کہ درخت کے نیچے کی زمین پکے لیموں سے پٹی ہوئی ہے۔ موذن کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ تمام لیموں کو چن کر مسجد کی ایک کھلی الماری میں رکھ دیتا۔ محلہ کے جس آدمی کو لیموں کی ضرورت ہوتی وہ ایک پیسیہ مسجد کی الماری میں رکھ کر ایک لیموں اپنے لیے لے لیتا۔ یا درخت سے لیموں توڑ کر فی لیموں ایک پیسیہ کے حساب سے اس کی قیمت الماری میں ڈال دیتا۔ یہ جمع شدہ پیسہ مسجد کی ضرورتوں میں کام آتا تھا۔ عبد الحکیم صاحب نے بتایا کہ مسجد کا یہ نظام میرے بچپن سے جاری تھا۔ کبھی اس میں فرق نہیں آیا مگر آزادی کے انقلاب کے بعد دنیا بدل گئی۔ لیموں تو اب ختم ہو گیا تھا۔ اس کی جگہ مسجد کے ذمہ داروں نے پپیتیہ کا درخت لگا دیا۔ حسن اتفاق سے پپیتیہ بھی خوب پھل دینے لگا۔ مگر میں نے دیکھا کہ پپیتیہ کا ایک پھل بھی پیڑ پر نہیں بچتا تھا۔ محلہ کے لوگ ایک ایک کر کے سارا پھل توڑ لے جاتے کسی کے دل میں شاید اس کا خیال بھی نہیں آتا تھا کہ یہ مسجد کی چیز ہے اور اس کی قیمت اس کو مسجد میں جمع کرنا چاہیے ۔ پپیتیہ توڑنے والے ایک لڑکے کو ایک بار دیکھ لیا گیا۔ اس سے کسی نے پوچھا کہ تم مسجد کا پھل کیوں اس طرح توڑتے ہو۔ اس کا جواب یہ تھا : سارے لوگ توڑتے ہیں کیا صرف ہم توڑتے ہیں جو آپ ہم سے سوال کر رہے ہیں (الجمعیتہ و ملی، دہلی، ۱۱ اکتوبر ۱۹۶۸) یہ ایک علامتی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ پچاس سال پہلے مسلمانوں کی اخلاقی حالت کیا تھی اور اب مسلمانوں کی اخلاقی حالت کیا ہو گئی۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ۱۹۴۷ کو حد فاصل قرار دیا جاسکتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ہر جگہ کے مسلمانوں کا اخلاقی حال وہی تھا جو مذکورہ مثال میں نظر آتا ہے، اور ۱۹۴۷ کے بعد ہر جگہ کے مسلمانوں کا اخلاقی حال دوبارہ وہی ہو گیا ہے جو مذکورہ مثال میں بعد کے دور کے لیے بتایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader