Urdu book · کاروانِ ملّت

الامر بالمعروف والنہی عن المنکر

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

دو دوروں میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب بالکل سادہ ہے۔ ۱۹۱۹ سے پہلے کے دور میں مسلم آبادیوں میں وہ نظام کم و بیش موجود تھا جو اس معاملہ میں سماجی چیک کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام۔ یہ نظام کسی سماج میں گویا سماج کا اخلاقی چیک ہے۔ جہاں یہ نظام قائم ہو، وہاں کے لوگوں میں اجتماعی اخلاقیات موجود رہیں گی۔ اور جہاں یہ نظام ختم ہو جائے وہاں اجتماعی اخلاقیات کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ یعنی باہمی زندگی میں ایک دوسرے کو معروفات کی تلقین کرنا اور لوگوں کو منکرات سے روکنا۔ اس کا مقصد وہی چیز ہے جس کو ہم نے اخلاقی چیک کہا ہے۔ اس نظام کو ہر حال میں مسلم سماج کے اندر قائم رہنا چاہیے۔ کسی مسلم سماج کا اس سے خالی ہونا پورے سماج کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ یہاں "نظام" سے مراد کوئی رسمی یا قانونی ڈھانچہ نہیں ہے۔ اس سے مراد تقریباً وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سماجی روایت کہا جاتا ہے۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مزاج معاشرہ کے افراد میں مستقل روایت کے طور پر شامل ہو جائے۔ سماج کا اجتماعی ضمیر اس حد تک بیدار ہو کہ وہ ماحول کی اخلاقی برائی کے معاملہ میں غیر جانبدار نہ رہ سکے۔ وہ بے چین ہو کر اس کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ یہ ایک لازمی فریضہ ہے۔ اس فریضہ کی اہمیت خدا کے دین میں اتنی زیادہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس حکم پر عمل نہیں کیا تو وہ اللہ کے نزدیک لعنت کے مستحق ہو گئے (المائدہ ٨٩) امام ابو داؤد نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیا تو یقیناً اللہ تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح اس نے یہود کے اوپر لعنت کی (وَنُعِلَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنُهُمْ) الجامع لاحكام القرآن ۲۵۳/۶ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا ہے۔ یہ داخلی اصلاح کا ایک عمل ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ اس کو احتساب عالم کے ہم معنی قرار دے کر تقریر و خطابت کی دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد احتساب معاشرہ ہے نہ کہ احتساب عالم۔ مزید یہ کہ اس کا تعلق حکومت سے بھی نہیں۔ یہ ہر مسلم معاشرہ میں اسی طرح جاری رہنے والا عمل ہے جس طرح اذان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page