الامر بالمعروف والنہی عن المنکر
Urdu book, PDF p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
اور نماز کا عمل ہر مسلم معاشرہ میں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطلب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ کے افراد اپنے آس پاس کے مسلمانوں کی حالت سے بے تعلق بن کر نہ رہیں۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے محتسب بنے رہیں۔ جب بھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کوئی زیادتی کرے۔ جب بھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی جان ، مال ، آبرو کو کوئی نقصان پہنچائے تو فوراً دوسرے مسلمان حرکت میں آجائیں۔ وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کے حامی بن جائیں اور ہر قیمت پر معروف کو قائم کرنے اور منکر کو مٹانے کی کوشش کریں۔ اس معاملہ میں پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مسلم معاشرہ کے لوگ اپنے افراد کا سختی سے محاسبہ کریں۔ وہ عملی دباؤ کے ذریعہ ظالمانہ حالت کو ختم کریں اور حق دار کو اس کا حق دلوائیں ۔ اگر بالفرض اس قسم کی عملی کارروائی کا موقع نہ ہو تو مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجہ میں یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان سے غلط کار شخص کی کھلی مذمت کریں۔ وہ تحریر و تقریر کے تمام ممکن ذرائع کو استعمال کرکے اس کے خلاف بے اعتمادی کا اظہار کریں۔ جس مسلم معاشرہ کے افراد اپنی داخلی خرابیوں کے معاملہ میں ایسا نہ کریں وہ بلاشبہ مجرم ہیں۔ قرآن و حدیث کی صراحتوں کے مطابق ، وہ خدا کی رحمت سے محروم کر دیے جائیں گے ، خواہ دین کے نام پر بظاہر ان کے یہاں کتنی ہی دھوم مچی ہوئی ہو۔ خدا کو وہ دین مطلوب ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ہو نہ کہ وہ دین جو اس کے بغیر ہو۔ ہجرت سے پہلے مدینہ کے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کے اوپر آپ نے انھیں میں سے کچھ نگران افراد مقرر کیے جن کو نقیب یا کفیل کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ مدینہ کے مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی نگرانی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مدینہ میں مسلمانوں کی حیثیت صرف ایک ” اقلیت “ کی تھی ، جب کہ مدینہ میں ابھی ” اسلامی حکومت “ قائم نہیں ہوئی تھی (البدایہ والنہایہ ۳/ ۶۲- ۱۶۱) یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پہلا نظام تھا جو اسلام کی تاریخ میں باقاعدہ طور پر قائم کیا گیا۔ اس کے بعد مسلمان جہاں بھی آباد ہوئے اور دنیا کے جس حصہ میں بھی انھوں نے اپنی بستیاں بنائیں ہر جگہ یہ نظام بھی ضرور قائم رہا۔ کہیں باقاعدہ صورت میں کسی شخص کو مقرر کیا گیا اور اس کو حق دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کی دینی اور اخلاقی نگرانی کرے۔ جہاں اس قسم کا تقرر نہیں کیا گیا وہاں بھی رسمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader