Urdu book · کاروانِ ملّت

الامر بالمعروف والنہی عن المنکر

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی بزرگوں کے وسیلہ کو سب سے زیادہ اہم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ کوئی سیاسی اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔ کوئی فضائل اسلام کا چرچا کرنے میں مشغول ہے۔ کوئی مسائل اسلام کا دفتر کھو لے ہوئے ہے۔ کسی کا اسلام تاریخی فخر ہے۔ کوئی احتساب کائنات کا نعرہ لگا رہا ہے۔ کوئی ملی تشخص کی حفاظت کے نام پر لوگوں کو جمع کر کے تقریر کر رہا ہے۔ کوئی دوسروں کے ساتھ مناظرہ بازی میں مشغول ہے، وغیرہ۔ مگر تحریکوں اور جماعتوں اور اداروں کے اس طوفان میں کوئی بھی نہیں جو ملت کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دینی فریضہ ادا کرے۔ یا لوگوں کے اندر اس کی روح بیدار کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہر ایک کی نظر صرف اپنے مفاد پر ہے۔ دوسرے مسلمانوں کے بارہ میں ہر ایک غیر جانب دار بنا ہوا ہے۔ آج ہر مقام پر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی زیادتی کا شکار ہو رہا ہے۔ ہر جگہ ایک مسلمان کی جان اور مال اور آبرو دوسرے مسلمان کے ہاتھوں غیر محفوظ ہے۔ مگر کوئی قابل ذکر مسلمان یا کوئی قابلِ ذکر مسلم گروہ مظلوم مسلمان کی مدد پر نہیں آتا۔ حتی کہ لفظی مذمت کے درجہ میں بھی کوئی اس کے لیے کھڑا ہو نے والا نہیں۔ ہر ایک اپنے اپنے خود ساختہ اسلام میں مگن ہو کر قرآن کی اس آیت کی تصویر بنا ہوا ہے : انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی پر وہ نازاں ہے (المومنون ۵۳) ۱۹۱۴ سے پہلے کے دور میں مسلم معاشروں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو ماحول تھا وہ ماضی کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔ وہ دور اول سے ایک اسلامی رواج کے طور پر چلا آ رہا تھا۔ مگر اس طرح کے رواج ہمیشہ مرور زمانہ سے کمزور ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار ختم ہو جاتے ہیں ۱۹۱۴ء گویا یا انحطاط کے اس لمبے عمل کی تکمیل تھی۔ ”آزادی “ کا انقلاب ” پابندی “ کی ہر روایت کو بہا لے گیا۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں عام ملکی سماج کی بھی تمام بندش والی روایتیں ٹوٹ پھوٹ گئیں۔ اسی طرح مسلم سماج سے بھی مذکورہ اسلامی روایات کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ اس روح کو از سر نو زندہ کیا جائے مسجد اور مدرسے سے اور جماعتیں اور ادارے سب کے سب زور و شور کے ساتھ اس کے لیے تحریک اٹھائیں۔ جس طرح زلزلہ زدہ بستی کو از سر نو بنانے کے لیے ہر طرف تعمیری سرگرمیاں جاگ اٹھتی ہیں، اسی طرح مسلم سماج میں از سر نو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page