الامر بالمعروف والنہی عن المنکر
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنے کے لیے تمام اہل دین متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دوبارہ گزری ہوئی روایت معاشرہ میں قائم ہو جائے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ اس مدت میں مسلم رہنماؤں نے اسلام کے نام پر بہت سی دھواں دھار تحریکیں اٹھائی ہیں۔ مثال کے طور پر خلافت تحریک، جہاد حریت کی تحریک ، تقسیم ملک کی تحریک ، شاہ بانو (مسلم پرسنل لاء) تحریک، بابری مسجد تحریک ، وغیرہ۔ مگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقصد کے تحت کبھی کوئی حقیقی تحریک نہیں اٹھائی گئی۔ اگر بروقت اسی نوعیت کی طاقت ور تحریک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے بھی اٹھائی جاتی تو اس کے بعد یقیناً ایسا ہوتا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یہ روایت دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ مسلم معاشرہ میں قائم ہو جاتی۔ دوبارہ ہمارے معاشرہ میں وہی اخلاقی دور لوٹ آتا جو ۱۹۴۷ء سے پہلے ”سرائیمر‘‘ کے قصبہ میں موجود تھا۔ مگر آج وہ کہیں موجود نہیں ۔ تقسیم کے بعد جب ہندو اکثریت نے مسلمانوں کے اوپر ”زیادتیاں کیں تو ان زیادتیوں کے خلاف مسلمانوں میں طوفان خیز ہنگامے جاری ہو گئے۔ تمام مسٹر قائد اور تمام مولوی قائد باہر نکل آئے۔ ہر طرف سرگرمیوں کا سیلاب امڈ پڑا۔ دوسری طرف ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر جو زیادتیاں کر رہا ہے وہ مذکورہ ہندو زیادتیوں سے ہزاروں گنا زیادہ ہے، مگر ان مسلم زیادتیوں کے خلاف آج تک کوئی ایک بھی باقاعدہ تحریک نہیں اٹھی، کسی بھی قابل ذکر مسلمان کی نیند اس کی وجہ سے حرام نہیں ہوئی۔ اس صورت حال کے باقی رہتے ہوئے مسلمانوں کا کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ ان کا کوئی بھی معاملہ درست ہونے والا نہیں۔ ملت مسلمہ کے احیار نو کے لیے ہمارا کوئی بھی منصوبہ صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ اس کے ساتھ مسلم معاشرہ میں امر بالمعروف، نہی عن المنکر کا نظام قائم کیا جائے اور اس کو موثر انداز میں چلایا جائے۔ ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ مسلم رہنما اور مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اس دینی شعبہ کو بھی اسی طاقت کے ساتھ رایج کرے جس طاقت کے ساتھ وہ دوسرے مسلم مسائل کے لیے کام کر رہا ہے۔ ۱۔ مسلمانوں کے درمیان جب تک معروف کی تلقین کرنے اور منکر سے روکنے کا ماحول قائم نہ ہو مسلمانوں کی آپس کی رنجشیں ختم نہ ہوں گی، اور آپس کی رنجشوں کو ختم کیے بغیر ان کے درمیان حقیقی اتحاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader