Urdu book · کاروانِ ملّت

الامر بالمعروف والنہی عن المنکر

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

قائم نہیں ہو سکتا۔ اور جب مدت کسی منصوبہ کے لیے متحدہ کوشش کرنے کی پوزیشن ہی میں ہو تو اس میں وہ کامیابی کس طرح حاصل کر سکتی ہے۔ بار بار کا تجربہ ہے کہ ملت کے افراد ایک ملی کام کے لیے اٹھے مگر افراد ملت کے عدم اتحاد کی وجہ سے اس کام کے لیے موثر جد و جہد نہ کی جاسکی۔ اگر کبھی بظاہر وقتی اتحاد قائم ہواتو باہمی رنجشوں کی وجہ سے بہت جلد وہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگیا۔ باہمی رنجشیں اتحاد کی قاتل ہیں، اور امر بالمعروف ، نہی عن المنکر باہمی رنجشوں کا قاتل۔ حقیقت یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نہایت گہرا تعلق اتحاد کے مسئلہ سے ہے۔ اتحاد کسی قوم کی طاقت ہے۔ اور اتحاد کسی قوم میں صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ اس کے درمیان باہمی اصلاح کا وہ نظام قائم ہو جس کا شرعی نام الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ہے۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے شخصی عزائم کے تحت سرکشی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ایک بھائی کے اوپر زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر قوم کے دوسرے افراد فوراً مظلوم بھائی کی مدد کے لیے پہنچیں ۔ وہ زیادتی کرنے والے شخص کی مذمت کریں۔ اس کو اس کے ظالمانہ عمل سے روکیں ۔ تو ماحول اس سے بچ جاتا ہے کہ اُس کے اندر باہمی نفرتیں جنم لیں جو اتحاد کی قاتل ہیں۔ اس کے برعکس ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو گویا قومی اتحاد کی موافق زمین ہے۔ ۲۔ ہندستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ دارانہ فساد ہے۔ یہ فسادات ملت کی ترقی کے ہر منصوبہ کو ناکام بنائے ہوئے ہیں۔ اور ان فسادات کے نہ رکنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم نہیں۔ یہ فسادات کیوں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ تقریبا ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اکثریتی فرقہ کے کچھ لوگ ایک مظاہرہ کرتے ہیں۔ مثلاً وہ جلوس نکالتے ہیں اور اس میں نامناسب نعرے لگاتے ہیں۔ اس قسم کے جلوس اور نعروں کا واحد حل اعراض ہے۔ جہاں بھی اعراض کیا گیا وہاں کبھی کوئی فساد نہیں ہوا۔ پورے ملک میں ایسی کوئی ایک مثال موجود نہیں کہ مسلمانوں نے فی الواقع اعراض کیا ہو، اس کے باوجود فساد ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page