الامر بالمعروف والنہی عن المنکر
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے کچھ جاہل اور نادان لوگ غیر ضروری طور پر جلوس والوں سے الجھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں طرف حمیت جاہلیہ کا ماحول قائم ہو جاتا ہے جو بالآخر تباہ کن فساد تک جا پہنچتا ہے۔ اس مہلک صورت حال کو ختم کرنے کی واحد کارگر تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنی قوم کے ان غلط کاروں کا ہاتھ پکڑیں۔ مگر تقسیم کے بعد چھوٹے بڑے پچاس ہزار فسادات ہو چکے ہیں ، اور ایک بار بھی مسلم ذمہ داروں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنے ان نا عاقبت اندیش نوجوانوں پر نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں ۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بھاگل پور میں ہندؤوں کا جلوس نکلا۔ جلوس مسلم محلہ سے گزرنے والی سڑک پر پہنچا تو مسلم نوجوانوں نے اس کو روک دیا۔ کلکڑ گھنٹوں مقامی مسلم رہمناؤں کے پاس دوڑتا رہا کہ آپ اپنے نوجوانوں سے کہۓ کہ وہ جلوس کو نہ روکیں۔ وہ جلوس کو سڑک سے گزرنے دیں۔ ہم اس کے ذمہ دار ہیں کہ یہاں کسی بھی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہونے پائے گا۔ مگر مقامی مسلم رہمناؤں نے اپنے نوجوانوں کو نہیں روکا، یہاں تک کہ انھوں نے یہ آخری نادانی کی کہ جلوس کے اوپر بم مارے۔ اس کے بعد وہی کچھ ہونا تھا جو بعد کو پیش آیا۔ یہی کسی ایک یا دوسری صورت میں تمام فرقہ وارانہ فسادات کی کہانی ہے۔ ان فسادات کی سزا اگرچہ مسلم عوام کو بھگتنی پڑتی ہے۔ مگر مسلم عوام یا خواص براہ راست طور پر ان میں ملوث نہیں ہوتے۔ ان فسادات کو بھڑکانے کے اصل ذمہ دار وہ پرجوش مسلم نوجوان ہیں جو نا عاقبت اندیشانہ طور پر ان میں کود پڑتے ہیں اور عدم اعراض کا طریقہ اختیار کر کے آگ کو بھڑکانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ان نوجوانوں کا ہاتھ پکڑیں۔ وہ متفقہ طور پر ان کی مذمت کریں تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو۔ مگر 4۹ سے لے کر آج تک ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا۔ ان فرقہ وارانہ فسادات پر حدیث رسول کے یہ الفاظ مکمل طور پر صادق آتے ہیں : إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ فلم يأخذوا عَلَى يَدَيْهِ جب ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں، پھر وہ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّه بِعِقَابِ اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader