الامر بالمعروف والنہی عن المنکر
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
(جامع الاصول فی احادیث الرسول، صفحہ ۳۱- ۲۳۰) عمومی عذاب میں مبتلا کر دے۔ مسلم آبادیوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ماحول نہ ہونے ہی کی وجہ سے بار بار فساد کی صورت پیش آ رہی ہے۔ جب تک یہ فسادات باقی ہیں ، ملی تعمیر کا کوئی گہرا کام نہیں کیا جاسکتا۔ ملی تعمیر کے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے پر امن حالات کی ضرورت ہے اور فسادات مسلسل طور پر پر امن فضا کو درہم و برہم کیے ہوئے ہیں۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اگر تم ہدایت پر قائم رہو تو کوئی نقصان پہنچانے والا تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا (المائدہ ۱۰۵) اگر تم خوف خدا پر رہو گے تو تمہارے لیے کیا اور خوف کا خطرہ نہیں (المائدہ ۳) یہاں ہدایت سے مراد یہی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو حکم خداوندی کے مطابق منظم کریں۔ ۳۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم نہ رہنے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج دعوت الی اللہ کا کام تقریباً معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ دعوت الی اللہ مسلمانوں کی لازمی ذمہ داری ہے۔ مگر دعوت کا کام جاری ہونے کی پہلی اہم ترین شرط یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں (داعی اور مدعو) کے درمیان کشیدگی اور ہر لئے کی پہلی اہم سرمایہ یہ ہے کہ مھاسوں اور غیر (رواں اور دو) کے درمیان سیدھی اور نفرت کی فضا نہ پائی جا رہی ہو۔ مگر مسلمانوں کے کچھ جاہل عناصر غیر مسلموں سے کسی ایک یادوسری بات پر نزاع قائم کرتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ان کے مدعو غیر مسلموں کے درمیان مستقل طور پر نفرت اور تلخی کی فضا قائم رہتی ہے۔ اس طرح کی فضا کے باقی رہتے ہوئے دعوتی کام کبھی انجام نہیں پاسکتا۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اپنے گروہ کے ان نادان لوگوں کا ہاتھ پکڑیں جو اپنی غلط روش سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان دعوت کی فضا کو بگاڑ رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے اپنے ان افراد کو نہیں روکا تو یقینی ہے کہ اس کے بعد پوری قوم عتاب خداوندی کی زد میں آجائے گی ۔ اس فریضہ کو ترک کرنے کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader