تعمیری پہلو
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
سے نہایت گہرے طور پر حقیقت پسندی کا سبق لیا ہے۔ ان کے اندر و واضح طور پر سیاست کا نیا انداز ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ " دوست " کی بات ان کی آنکھ کھولنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی ، "مگر" دشمن کے عمل نے ان کی آنکھیں کھول دیں ۔ اب یقینی ہے کہ بیسویں صدی کا خاتمہ مسلمانوں کی بے فائدہ جذباتی سیاست کا خاتمہ ثابت ہوگا۔ اکیسویں صدی میں وہ از سر نو ایک حقیقت پسند قوم بن کر داخل ہوں گے اور انشا اللہ اسلام کی نئی تاریخ بنائیں گے۔ خلیج کے تخریبی واقعہ میں یہ تعمیری پہلو واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے مسلمانوں کے جذباتی انداز فکر پر روک لگائی ہے اور ان کے اندر حقیقت پسندانہ طرز فکر ابھرا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ بڑے بڑے الفاظ بولنا کوئی کام نہیں۔ اصل کام عمل ہے خواہ وہ بظاہر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ وہ اس راز کو جان رہے ہیں کہ اقدام وہ ہے جو تیاری کے بعد کیا جائے۔ تیاری کے بغیر کیا ہوا اقدام خود کشی کی چھلانگ ہے نہ کہ کوئی حقیقی اقدام ۔ وہ زندگی کی اس حقیقت سے بھی اچھی طرح آگاہ ہو گئے ہیں کہ طاقت در اصل داخلی استحکام کا نام ہے۔ کوئی بھی خارجی چیز داخلی کمی کی تلافی نہیں بن سکتی۔ اب تک مسلمان صرف بولنے کو کام سمجھے ہوئے تھے ، اب انھوں نے جانا کہ بہت سے مواقع پر نہ بولنا ہی زیادہ بڑا کام ہوتا ہے۔ وہ ہر عمل کے بعد جوابی عمل کرنے کو ضروری خیال کئے ہوئے تھے ، اب انھوں نے یہ دریافت کیا کہ اکثر اوقات فریق ثانی کے عمل کے باوجود جوابی عمل نہ کرنا زیادہ موثر کارروائی ہوتا ہے۔ اب تک وہ اس وہم میں پڑے ہوئے تھے کہ جب کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جائے تو اس کے بعد ہمارا مشتعل ہو جانا عین فطری ہے ، مگر خلیج کے تجربہ سے انھوں نے یہ سیکھا ہے کہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا زیادہ کامیاب اقدام ہے۔ مسلمان اب تک اس غلط فہمی میں تھے کہ اگر طاقت ہو تو اس کو استعمال کرنا بھی ضروری ہے ، اب انھوں نے جانا کہ استعمال طاقت سے بھی نہ زیادہ بڑی چیز مظاہرہ طاقت ہے۔ اب تک وہ یقین کئے ہوئے تھے کہ ہر موقع پر لڑے جانے کا نام جہاد ہے۔ اب انھوں نے جانا کہ سب سے پہلا جہاد قوم کو تیار کرنا ہے۔ ضروری تیاری کے بغیر قوم کو جنگ میں الجھانا جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے جس کا کوئی نتیجہ اسباب کی دنیا میں نکلنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader