Urdu book · خلیج ڈائری

دعوتی پہلو

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مسلمانوں سے اور اسلام سے ضرور متاثر ہوئے ہیں۔ خواہ وہ بظاہر دشمن ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی ایک واضح مثال تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کا مسلمانوں سے اختلاط کا واقعہ ہے۔ تاتاری اگرچہ جارح اور دشمن تھے، مگر جب ان کا مسلمانوں سے قریبی اختلاط ہوا تو اسلام نے انھیں مسخر کر لیا اور ان کی بڑی تعداد اسلام کے حلقہ میں داخل ہو گئی۔ اسلام کے دشمن اسلام کے دوست بن گئے۔ امریکیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ کھلے ذہن کے ہوتے ہیں۔ کوئی بات ان سے کہی جائے تو عام طور پر وہ اس کو غور سے سنتے ہیں اور غیر متعصبانہ فہم کے تحت اس کے بارہ میں اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بہت سے واقعات میں نے پڑھے ہیں۔ نیز کئی واقعات خود میرے ذاتی علم میں آئے ہیں۔ ایک واقعہ وہ ہے جو ۵ دسمبر ۹۹ء کی شام کو امریکہ میں قیام کے دوران پیش آیا۔ اس روز اسلامک سوسائٹی آرج کاؤنٹی (کیلی فورنیا) کے ہال میں ایک اجتماع تھا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ یہ یہودی مسیحی مسلم سمینار (Trialogue) تھا۔ سیمنار کی تکمیل پر خاتمہ کا کلمہ مجھے کہنا تھا۔ تینوں مذہب کے تین بنیادی مقرر حسب ذیل تھے : 1. Rabbi Dr David Gordis, President, University of Judaisa, L.A. 2. Rev. Dr George Grose, President, Academy for Judaic, Christian & Islamic Studies, L.B. 3. Imam Dr Muzzammil H. Siddiqi, Director, Islamic Society of Orange County, C.A. پہلے یہودی عالم نے تقریر کی اور اپنے مذہب کی تعلیمات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد عیسائی عالم کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے مذہب کے بارہ میں تفصیل سے بتایا۔ آخر میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی ڈائرکٹر اسلامک سوسائٹی آرج کاؤنٹی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اسلام کا تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کی تقریر اسی طرح بقیہ دونوں تقریروں پر بھاری ہو گئی جس طرح اسلام دوسرے مذاہب پر بھاری ہے۔ میرے قریب کی سیٹوں پر چند امریکی نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ تقابلی مذہب (comparative religion) کے طلبہ تھے۔ وہ اگرچہ مسیحی تھے اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر کو سننے کے بعد ایک نو جوان نے اپنے امریکی ساتھیوں سے کہا کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page