Urdu book · خلیج ڈائری

خلیج ڈائری

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

مسیحی ہوں۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر نے مجھے اپنے عقیدہ کے بارے میں شک میں ڈال دیا ہے اور میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ مجھے اسلام کے بارے میں اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعتاً غیر معمولی قسم کے لائق آدمی ہیں : I am a Christian. But Dr Siddiqi's presentation makes me think twice. I have to learn more about Islam. He was terrific real genius. حل یہاں ہے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل ہے۔ ۱۹۴۸ کے جہاد فلسطین سے لے کر ۱۹۹۱ کی جنگ خلیج تک سینکڑوں چھوٹے بڑے ٹکرائو اس مسئلہ کے نام پر ہوچکے ہیں۔ مگر ۵۰ سالہ کوششوں کے باوجود اصل مسئلہ ایک فیصد بھی حل نہ ہو سکا۔ بلکہ دن بدن اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس معاملہ میں جہاد و قتال کا طریقہ بہت زیادہ آزمایا جا چکا ہے۔ اب میں کہوں گا کہ مسلمان اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے وہ طریقہ اختیار کریں جس کو دعوت کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ یہاں میں ایک حدیث یاد دلانا چاہتا ہوں۔ مکی دور کے آخر میں جب کہ اسلام کے لئے بظاہر نہایت مشکل حالات ہو چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امرت بقریۃ تأکل القری یقولون یثرب وهي المدینۃ ( مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بستی تمام دوسری بستیوں کو کھا جائے گی ۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے) یہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے کی طرف اشارہ تھا۔ مگر ہجرت محض ترک وطن کا نام نہیں ہے۔ ہجرت دراصل " تبدیلی عمل کا نام ہے ۔ یعنی مشن کو آگے بڑھانے کے لئے جب ایک مقام پر عمل پر عمل مؤثر نہ ہو رہا ہو تو دوسرے مقام پر عمل شروع کر دیا جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق مکہ کو چھوڑ دیا ، اور مدینہ کو اپنا مرکز عمل بنایا ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس کے جلد ہی بعد وہ حالات پیدا ہوئے کہ مکہ پوری طرح مسخر ہو گیا۔ حدیث کی روشنی میں فلسطین کے مسئلہ پر سوچئے تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اس معاملہ میں امریکہ کو " قریہ " کی حیثیت حاصل ہے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اگر " فلسطین " میں عمل کر کے تنہا مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page