خلیج ڈائری
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
حل نہیں ہو رہا ہے تو اپنے عمل کا میدان "امریکہ" کو بنا لو۔ یعنی فلسطین کی جغرافیائی جدوجہد کو امریکہ کی دعوتی جدوجہد میں تبدیل کر دو۔ اسلام کے پر امن ربانی پیغام کو لے کر امریکہ میں داخل ہو جاؤ۔ حالات بتاتے ہیں کہ مسلمان اگر اس دعوتی کوشش کو صحیح انداز سے چلائیں تو انشاء اللہ وہی ہوگا جو مدینہ میں ہوا۔ یعنی امریکہ کے بیشتر گھروں میں اسلام داخل ہو جائے گا۔ اور امریکہ کی قابلِ لحاظ آبادی اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائے تو گویا مسلمانوں کو فلسطین کے مسئلہ کی کنجی ہاتھ آ گئی۔ عجب نہیں کہ اس کے بعد ایسا انقلابی نتیجہ سامنے آئے کہ کوئی کہنے والا کہ پڑے۔ فلسطین کا وہ راستہ زیادہ قریب ہے جو امریکہ ہو کر جاتا ہے۔ تاریخ کا اعادہ بغداد، اسلام کی تاریخ میں بیک وقت دو چیزوں کی علامت ہے۔ اہلِ اسلام کی سیاسی بربادی، اور پھر سیاسی بربادی کے کھنڈر سے دوبارہ اسلام کی نئی دینی تاریخ کا ظہور میں آنا۔ ۱۳ ویں صدی عیسوی میں بغداد مسلم تہذیب کا عظیم مرکز تھا۔ ۱۲۵۸ء میں مغل سردار ہلاکو خاں طاقتور قبائلی فوج کے ساتھ بغداد میں داخل ہوا ۔ اس نے خلیفہ المستعصم کو قتل کر دیا۔ اور وہاں کے ۸ لاکھ (800,000) باشندوں کو ہلاک کر ڈالا۔ مورخ ابن اثیر اس وقت زندہ تھا ۔ اس نے عینی شہادت کے مطابق اپنی تاریخ میں ان واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ آدم کی پیدائش سے لے کر اب تک کے تمام حادثات میں یہ سب سے بڑا حادثہ تھا تو ایسا کہنا غلط نہ ہوگا۔ مگر اس حادثہ کے فوراً بعد یہ ہوا کہ دوبارہ اسلام کے موافق اسبابِ تاریخ میں کام کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ ۵۰ سال بعد حالات بالکل بدل گئے۔ تلوار کی طاقت سے فتح حاصل کرنے والے تاتاری اسلام کی فکری اور روحانی طاقت سے مفتوح ہو گئے۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جو لوگ اسلام کے دشمن سمجھے جارہے تھے، وہ اسلام کے خادم اور اس کے پاسبان بن گئے ہیں۔ ۱۹۹۱ء میں دوبارہ بغداد کے ساتھ وہی معاملہ شدید تر شکل میں پیش آیا جو اس سے ۳۳ء سال پہلے یہاں پیش آیا تھا۔ یہ بلاشبہ ایک بے حد المناک حادثہ ہے۔ ایک معاصر مصنف نے موجودہ حادثہ کے پیچھے کام کرنے والی تحریکوں اور ان کے مخطوطات کی تفصیل بتاتے ہوئے اس کو عالم عربی کے اوپر سب سے بڑا خطرہ ( اکبر خطر علی العالم العربی ) بتایا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader