Urdu book · خلیج ڈائری

تاریخ کا اعادہ

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر راقم الحروف کو اس کے برعکس ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شر سے دوبارہ ایک خیر ظاہر ہوگا اور عجب نہیں کہ موجودہ خیر پہلے خیر سے زیادہ بڑا ہو۔ جیسا موجودہ شر پہلے شر سے زیادہ بڑا تھا۔ اس شر میں خیر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جدید مسلم قوموں میں پہلی بار یہ ذہن ابھر رہا ہے کہ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے سیاسی طریقہ مفید نہیں۔ اس مقصد کے لئے صحیح اور مفید طریق کار وہ ہے جس کو دعوتی طریق کار کہا جاتا ہے۔ یعنی اسلام کی فکری اور نظریاتی قوت کو عمل میں لا کر اسلام کا احیاء کرنا۔ اسلام کی پر امن طاقتوں کو بروئے کار لانا۔ اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے۔ تبلیغ و دعوت ہی اس کی طاقت کا اصل راز ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں انھوں نے مخصوص اسباب کے تحت سیاسی رخ اختیار کر لیا۔ ان تحریکوں کی دو بڑی قسمیں تھیں۔ ایک وہ جو اسلامی سیاست اور اسلامی نفاذ کے نام پر اٹھیں اور دوسری وہ جنھوں نے سوشلزم اور عرب قومیت جیسے نعرے اختیار کر لیتے۔ یہ دونوں قسم کی تحریکیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھیں مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کا حاصل ایک تھا۔ اسلامی تحریک اور اسلامی جدوجہد کا اصل انحصار عملیت دعوت (dawah activism) پر ہوتا ہے۔ مگر ان تحریکوں نے مسلمانوں کو بے فائدہ طور پر عملیت سیاسی (political activism) حتی کہ مزید تباہ کن طور پر عملیت عسکری (violent activism) میں مبتلا کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں جو سائنسنی انقلاب آیا ہے اس نے اسلام کی اشاعت کے لئے بے شمار نئے مواقع اور نئے امکانات کھول دئے تھے سب سے بڑا کرنے کا کام یہ تھا کہ ان دعوتی امکانات کو استعمال (avail) کیا جائے۔ مگر مذکورہ قسم کی سیاسی تحریکوں خواہ وہ اسلام کے نعرہ پر اٹھتی ہوں یا سیکولر نعرہ پر، دونوں کا مشترک نقصان یہ ہوا کہ جدید مسلم نسل کا ذہن سیاست کی طرف مڑ گیا اور اسلام کی دعوت اور اشاعت کے انتہائی قیمتی امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے۔ میرے اندازے کے مطابق بغداد کا تازہ حادثہ زحمت کے بھیں میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حادثہ نے نہ صرف عرب قومیت کی تحریک کو بلکہ خود سیاسی عملیت کے ذہن کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ "بغداد" کے کھنڈر سے ایک نیا ذہن ابھرے گا۔ تمام دنیا کے مسلمان پچھلے سو سالہ طریق کار پر نظر ثانی کریں گے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page