تاریخ کا اعادہ
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی عملیت (political activism) یا عسکری عملیت (violent activism) نقصان کو آخری حد تک محسوس کر کے اسے چھوڑ دیں گے اور عملیت دعوت (dawah activism) کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لئے اختیار کر لیں گے۔ اب تک مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ ان کے تمام لکھنے اور بولنے والے استعماری اور صليبي اور صہیونی سازشوں (المؤ امرات والمخططات) کی اصطلاح میں سوچتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے تمام موجودہ مسائل خارجی دشمنوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ یہ فکر یقینی طور پر رد عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوا تھا۔ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی نہ تھا۔ کیوں کہ قرآن و سنت میں واضح طور پر بتا یا گیا ہے کہ تمہارے مسائل ہمیشہ داخلی غفلت کے نتیجہ میں پیدا ہوں گے نہ کہ خارجی سازشوں کے نتیجہ میں۔ خلیج کی جنگ نے اس وہم کا غبارہ توڑ دیا ہے۔ اب قوی امید ہے کہ انشاء اللہ مسلمان بے فائدہ مقابلہ آرائی کے طریقوں کو چھوڑ دیں گے۔ اور پوری طرح اس عمل کو اختیار کریں گے جس کو ہم نے دعوہ ایکشنزم (dawah activism) کا نام دیا ہے۔ خلیج کی جنگ مسلمانوں کے دور غفلت کا خاتمہ اور ان کے دور عمل کا آغاز ہے۔ اور کسی انسانی گروہ کے لئے اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی غفلت اور بے شعوری کو ختم کر کے حقیقی عمل کے میدان میں اپنی مثبت جد و جہد شروع کر دے۔ تاریخ کے تمام بڑے واقعات بڑے بڑے حادثات کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں۔ خلیج کا معاملہ بھی مجھے اسی قسم کا ایک حادثہ نظر آتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس برباد حال سے ایک نیا مستقبل ابھرے گا۔ ایسا ہونا اتنا یقینی ہے جتنا تاریک رات کے بعد روشن صبح کا آنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader