خلیج ڈائری
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
داخلی اصلاح، خارجی انقلاب تفکیر (thinking) کی دو قسمیں ہیں، ایک کو خارج رخی (outward-oriented) تفکیر اور دوسری کو داخل رخی (inward-oriented) تفکیر کہا جاسکتا ہے۔ خارجی تفکیر میں نظام (system) کو ساری اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی کو سب سے بڑا کام بتاتی ہے۔ اس کے برعکس داخلی تفکیر میں ساری اہمیت انسانی فرد کو دی جاتی ہے۔ اس کی ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ فرد کے اندرونی وجود میں مکمل داخلی انقلاب پیدا کر دے۔ موجودہ زمانہ میں جن تحریکوں کو عمومی شہرت ملی، وہ سب کی سب وہی ہیں جو خارجی تفکیر کی بنیاد پر اٹھائی گئیں۔ مگر حقیقی اسلامی تحریک وہ ہے جو داخلی تفکیر کی بنیاد پر اٹھے۔ جس کا نشانہ فرد ہو نہ کہ خارج میں پایا جانے والا اجتماعی ڈھانچہ۔ کیوں کہ خارجی ڈھانچہ اندرونی نظام کے تابع ہے، نہ کہ اندرونی نظام خارجی ڈھانچہ کے تابع۔ قرآن کے مطابق "نفس" کی سطح پر تغیر سے "قوم" کی سطح پر تغیر واقع ہوتی ہے (انّ اللّٰہ لایغییر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم، الرعد ۱۱) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ تعداد اور عمل اور قربانی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی ظاہری مقدار تمام پیغمبروں کے مجموعی کام سے بھی زیادہ نظر آئے گی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے تمام کی تمام تحریکیں بالکل صفر ہو کر رہ گئیں۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ یہ تحریکیں خارجی تفکیر کی بنیاد پر اٹھیں، جب کہ خدا کے قانون کے مطابق، نتیجہ خیز اسلامی عمل صرف وہ ہے جو داخلی تفکیر کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ ایک مثال خلیج کے المیہ پر ایک ہندوستانی عالم کی کتاب ۱۹۹۱ میں چھپی ہے۔ اس کا نام ہے : اکبر خطر علی العالم العربي (عالم عرب کے اوپر سب سے بڑا خطرہ) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ البعث العربی کی تحریک جس کے زیر اثر بعث پارٹی وجود میں آئی، وہ عالم عرب کے لئے امریکہ اور برطانیہ کے تدخل سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ تحریک جزیرۃ العرب کو دوبارہ جاہلیت اولیٰ کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ حتی کہ وہ کارپورٹ کے تمام بابرکت نتائج کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ عام مسلمان اس خطرناک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader