Urdu book · خلیج ڈائری

ایک مثال

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریک کے ارادوں اور منصوبوں سے واقف نہیں، بلکہ وہ خود اس سے براہ راست واقفیت رکھتے ہیں۔ اسی واقفیت کی بنیاد پر انھوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ البعث العربی، یا صدام حسین کی بعث پارٹی عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے تو یہ بلا شبہ قرآن کی تنسیخ و تردید کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ قرآن کے نزول کی تکمیل کے بعد واضح طور پر اعلان کر دیا گیا ہے کہ اب اہل کفر اور اہل باطل کی طرف سے تمہارے لئے خطرہ کا دور ختم ہو گیا۔ نزول قرآن اور تکمیل دین کے بعد اب کفر و باطل نا امیدی کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور اسلام اور اہل اسلام امید کے دور میں۔ اس لئے اے مسلمانو، تم دوسروں سے اندیشہ نہ کرو۔ اب تم کو صرف اللہ رب العالمین سے اندیشہ کرنا چاہئے: الیوم یئس الذین کفروا من دینکم آج کفر کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے مایوس فلا تخشوہم واخشون (المائدہ ۳) ہوگئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، اور تم صرف مجھ سے ڈرو۔ التفسیر المظہری میں اس آیت کی تشریح میں یہ الفاظ درج ہیں: فلا تخشوہم، ان یظہر وا علیکم و "ان سے نہ ڈرو" کہ وہ تمہارے اوپر غالب آجائیں یبطلوادینکم، واخشون، یعنی اخلصوا گے اور تمہارے دین کو باطل کر دیں گے۔ اور "مجھ الخشیة لی... وقیل اظہرت دینکم علی سے ڈرو" یعنی ڈر کو صرف میرے لئے خالص کر دو۔ الادیان کلھا و آمنکم من الاعداء ۶ اور کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے دین کو تمام دینوں (۳ / ۲۴ - ۲۵) پر غالب کر دیا ہے اور تم کو دشمنوں سے محفوظ کر دیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس آیت کی تشریح اسی انداز میں کی ہے۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ مولانا عبد الماجد دریا بادی کے الفاظ میں یہ ہے: "یہ گویا وعدہ الہی ہے کہ اب تشویش و تردید کی چیز غلبہ کفر اور استیلا کفار نہیں، بلکہ احکام شریعت سے تجاوز اور ترزل ہے، یہی چیز ایسی ہے جو مسلمانوں کو ضرر پہنچا سکتی ہے۔ اور ان کے ملی وجود کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔ خشیت الہی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی کمی مسلمانوں میں ضعف پیدا کر سکتی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page