Urdu book · خلیج ڈائری

ایک مثال

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کہ اہل کفر کی کوئی خارجی قوت۔ اور تاریخ و تجربہ نے اسے لفظ بہ لفظ صحیح ثابت کرکے دکھایا ہے۔ اس چودہ سو سال کے عرصہ میں جب کبھی اور جہاں بھی ملت کو نقصان پہنچاہے اپنے ہی ضعف ایمان سے، بے عملی سے، بدعملی سے خوف خدا کی کمی سے۔ (تفسیر ماجدی، جلد دوم، صفحہ ۱۸۳) دین ذریعہ حفاظت خدا کا دین جب حقیقی طور پر لوگوں کی زندگیوں میں قائم ہو تو وہ اہل دین کے لئے ہر خطرہ کے مقابلہ میں حفاظت کی گارنٹی ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ حفاظت صرف اس وقت ہوتی تھی جب کہ ایک زندہ نبی قوم کے درمیان موجود ہو۔ کیوں کہ نبی کی رحلت کے بعد دین اپنی محفوظ حالت میں باقی نہیں رہتا تھا۔ اور جب دین محفوظ نہ ہو تو اس کے نتائج کیوں کرظہور میں آسکتے ہیں۔ مگر پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کو قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ اس لئے دین کے ذریعہ اہل دین کی حفاظت کا انتظام بھی اب قیامت تک کے لئے قائم ہو گیا ہے۔ اب مسلمانوں کے لئے خارجی دشمن سب سے بڑا خطرہ نہیں۔ اب ان کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ داخلی طور پر ان کے اندر دین کی حقیقت باقی نہ رہے۔ مسلمان اگر اللہ سے ڈرنے والے بن کر رہیں تو وہ اسی طرح اہل باطل کے فتنوں اور سازشوں سے محفوظ رہیں گے جس طرح نبیوں کے ماننے والے اپنے نبی کے دور حیات میں ان سے محفوظ رہتے تھے۔ قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ خطرہ کی حالت یہ ہے کہ مسلمان آج اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی نہیں جو بظاہر دیندار اور مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اللہ کے خوف سے جو صفات پیدا ہوتی ہیں، وہ صفات موجودہ مسلمانوں میں باقی نہیں رہیں۔ آج مسلمانوں کے اندر وہ صفات آگئی ہیں جو اللہ سے بے خوفی کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ یہ حالت صرف عوام کی نہیں ہے، بلکہ خواص کی حالت بھی عملاً یہی ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں ظاہری اسلام کی دھوم ضرور ہے ، مگر خوف خدا اور والے اسلام کا ان کے اندر کوئی وجود نہیں۔ الا ماشاءاللہ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں پر وہ وقت آگیا ہے جس کی آگاہی حدیث میں دی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہاں نقل کی جاتی ہے۔ جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک اشجعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page