Urdu book · خلیج ڈائری

ایک مثال

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کر علم اٹھا لیا جائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا، اے خدا کے رسول کیا ہم سے علم اٹھا لیا جائے گا، حالاں کہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو مدینہ کا سمجھ دار آدمی جانتا تھا۔ یہود و نصاریٰ کیا تو رات و انجیل کو نہیں پڑھتے۔ پھر بھی ان کی باتوں پر ان کا عمل نہیں ہے ۔ جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انھوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ انھوں نے کہا کہ عوف نے سچ کہا۔ پھر شداد نے کہا۔ جانتے ہو، علم کا اٹھا جانا کیا ہے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ شداد نے کہا، اس کے برتن کا چلا جانا (ذہاب او عییته اس کے بعد شداد نے کہا: هل تدرى اى العلم يُرفع ، قال کیا تم جانتے ہو کون سا علم اٹھا لیا جائے گا۔ قلتُ لا ادري ۔ قال الخشوع حتى لا انھوں نے کہا نہیں۔ فرمایا : خشوع اٹھا لیا جائے گا ۔ یہاں تک کہ کوئی خاشع نہ دیسی کا۔ يُری خاشعا ابن عبد البر ، جامع بیان العلم و فضلہ ، (۱/ ۱۵۳) اللہ کا خوف کوئی سادہ بات نہیں ، اور نہ وہ زندگی سے غیر متعلق کوئی چیز ہے۔ اللہ کا خوف ایک کردار ساز طاقت ہے۔ جن لوگوں کے سینہ میں اللہ کا خوف ہو، وہ عین اس کے نتیجہ میں سنجیدہ انسان بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر تواضع کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ عہد کو پورا کرنے والے اور انصاف پر قائم ہونے والے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی خواہِ نفس کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دیتے ہیں۔ اللہ کا خوف ان سے سرکشی اور بے راہ روی کا مزاج چھین لیتا ہے۔ وہ ہمیشہ حق کی حمایت کرتے ہیں، خواہ وہ ان کے موافق ہو یا ان کے خلاف۔ یہ تمام اوصاف گویا خدائی ڈھال ہیں۔ یہ اوصاف جس گروہ کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں وہ اس کے لئے اس کے مخالفین کے مقابلہ میں حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے اصل خطرہ کی بات یہ ہے کہ اس قسم کا دین ان میں موجود نہیں رہا۔ دین کے نام پر ان کے یہاں جو چیز ہے وہ کچھ ظواہر دین ہیں نہ کہ حقیقت دین۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page