حفاظت کی صورتیں
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ سے ڈرنے والا عہد کو پورا کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ عہد کو توڑنے والا۔ ۲- عراق نے اس سے پہلے ستمبر ۱۹۸۰ء میں، ایران پر حملہ کیا۔ یہ واضح طور پر ایک مسلم ملک کی دوسرے مسلم ملک کے اوپر جارحیت تھی۔ یہ جارحیت آٹھ سال تک جاری رہی۔ مگر مسلم دنیا کے علماء میں سے کسی بھی قابل ذکر شخصیت نے اس جارحیت کی ندمت نہیں کی۔ تمام علماء اور "اکبر خطر علی العالم العربی" جیسی کتابیں لکھنے والے تمام لوگ اس وقت آیات اللہ خمینی کے خلاف بیان اور مضمون اور کتاب چھاپنے میں مشغول رہے، جو بالواسطہ طور پر صدام حسین کی حمایت اور اس کی حوصلہ افزائی کے ہم معنی تھا۔ ہمارے علماء، اگر فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے ہوتے تو قرآن کے حکم عدل کے مطابق، وہ ایران کے خلاف عراقی حکمران کی جارحیت کی مذمت کرتے، جس طرح بعد کو انہوں نے کویت کے خلاف اس کی جارحیت کی مذمت کی۔ اگر تمام علماء اور تمام اکابر ملت ۱۹۸۰ء میں صدام حسین کی پہلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرتے تو عین ممکن تھا کہ صدام حسین کو دوبارہ کویت کے خلاف اس قسم کی جارحیت کا حوصلہ نہ ہو۔ ۳- اگست ۱۹۹۰ء میں عراقی حکمران صدام حسین نے ایک لاکھ سے زیادہ فوج کویت کے اندر داخل کر دی اور ایک پڑوسی ملک پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ مگر دنیا بھر کے پچاس سے زیادہ مسلم حکمران اس معاملہ میں کچھ بھی نہ کر سکے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بھی نہیں کیا کہ متفقہ طور پر اس ظلم اور جارحیت کے خلاف آواز بلند کریں۔ اگر ان مسلم حکمرانوں میں اللہ کا خوف ہوتا تو یقینی طور پر وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کی حمایت پر متحرک ہو جاتے۔ مثلاً پہلی فرصت میں تمام کے تمام حکمران کسی مقام پر جمع ہو کر مشورہ کرتے۔ وہ بغداد جا کر صدام حسین کے اوپر متفقہ انداز میں دباؤ ڈالتے اور اس طرح اس کو مجبور کرتے کہ وہ کویت سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ بالفرض اگر اس قسم کا عملی اقدام ممکن نہیں تھا تو اتنا تو لازمی طور پر ہونا چاہئے تھا کہ تمام مسلم حکمران کامل اتفاق رائے کے ساتھ صدام حسین کے خلاف مذمت کی قرارداد پاس کریں۔ مگر خلیجی بحران کے معاملہ میں وہ نہ عمل کی سطح پر کوئی متفقہ کارروائی کر سکے اور نہ قول کی سطح پر۔ حالاں کہ اگر ایسا ہوتا کہ صدام حسین اس معاملہ میں تمام مسلم حکمرانوں کی حمایت کھو دیتا تو ناممکن تھا کہ اس کے بعد وہ کویت کے خلاف اپنی جارحیت پر قائم رہ سکے۔ مسلم حکمرانوں نے کوئی ایک یا دوسری وجہ بتا کر مشترکہ میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ حالاں کہ اگر وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader