حفاظت کی صورتیں
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ سے ڈرنے والے ہوتے تو رہ کہتے کہ یہ کون سا موقع ہے جب کہ ہم آپس کے اختلافانتا۔ ناکوشش کرا اپنے مظلوم بھائی کی مدد کریں اور کسی بھی وجہ کو متحدہ کارروائی میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ ۴۔ یہی معاملہ مسلم عوام کا ہے۔ آج اگر مسلم عوام میں وہ دین زندہ ہوتا جو تقویٰ اور خشیت کے اوپر قائم ہوتا ہے تو ساری دنیا کے مسلمان تڑپ اٹھتے۔ وہ کہتے کہ اسلام میں کسی مسلمان کی چیز دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے۔ پیغمبر اسلام نے تو اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کے سامنے ہتھیار کھولے۔ ایسی حالت میں یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ ایک مسلم ملک دوسرے مسلم ملک میں اپنی فوجیں داخل کرکے اس کے اوپر ناحق قبضہ کرلے۔ اگر موجودہ مسلمان اللہ سے ڈرنے والے ہوتے تو تمام مسلمان اس معاملہ میں صدام حسین کے مخالف ہو جاتے۔ وہ صدام حسین کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے۔ وہ خط اور تار اور ٹیلیفون کے ذریعہ صدام حسین پر زور ڈالتے کہ وہ اس عمل بد سے باز رہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر خوف خدا ہوتا تو صدام حسین کو ساری دنیا میں ایک شخص بھی اپنی حمایت کرنے والا نہ ملتا۔ اور اگر ایسا ہوتا تو یقینی طور پر صدام حسین کے حوصلے پست ہوجاتے۔ وہ مجبور ہو جاتا کہ کویت کو خالی کر دے اور اپنی فوجوں کو وہاں سے واپس بلالے۔ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کی حمایت بلاشبہ خدا ترسی کی علامت ہے۔ مگر مذکورہ کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے مختلف طبقات میں سے کوئی ایک طبقہ بھی خشیت الہی کی سطح پر قائم نہیں ۔ اور رہی کمی د نہ کہ کوئی خارجی سازش، وہ اصل سبب ہے جس نے صدام حسین کا مسئلہ اور اس جیسے دوسرے خطرناک مسائل ہمارے لئے موجودہ زمانہ میں پیدا کر دیئے ہیں۔ پر امن طاقت خشیت الہی کا معاملہ محض روایتی عقیدہ کا معاملہ نہیں، اس کی حیثیت تمام انقلابی اصولوں سے نہ زیادہ بڑے انقلابی اصول کی ہے۔ اللہ کی خشیت جب کسی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتی ہے۔ وہ انسان کو پورے راہ روی سے ہٹا کر بہ راہ راست پر ڈال دیتی ہے۔ وہ انسان کو مکمل طور پر اصلاح یافتہ انسان بنا دیتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خشیت کا اصول پر امن تبدیلی کا اصول ہے۔ وہ امن کی طاقتوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader