Urdu book · خلیج ڈائری

حفاظت کی صورتیں

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

کو مشترک کر کے انسانیت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ امن کی طاقت، تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں، بہت زیادہ بڑی اور بہت زیادہ اثر انگیز ہے۔ اوپر ہم نے دکھایا ہے کہ اگر موجودہ مسلمانوں میں خشیت الہی کی روح زندہ ہوتی تو خلیج کا مسئلہ کتنے اعلیٰ طریقے پر حل ہو سکتا تھا۔ اس کے برعکس تشدد کی طاقت کی بے اثری کو دیکھئے۔ امریکہ نے دوسری قوموں کو ساتھ لے کر خلیج کے مسئلہ کو تشدد کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس مسئلہ کے حل کے لئے تشدد کا استعمال اتنے بڑے پیمانہ پر کیا جو تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نہ صرف عراق کو بلکہ کویت کو اور بالواسطہ طور پر خلیج کے پورے علاقہ کو ایسے تباہ کن مسائل میں مبتلا کر دیا جس سے نکلنے کے لئے پچاس برس کی مدت بھی شاید کافی نہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ حربی طاقت کے بے پناہ استعمال کے باوجود امریکہ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوا۔ ٹائم میگزین (۳ جون ۱۹۹۱) نے صفحہ ۳۰- ۳۱ پر اس معاملہ میں امریکہ کا ایک جائزہ چھاپا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ خلیج کے آفت زدہ علاقہ کی نئی حقیقتوں نے امریکہ کے اس خواب کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ شرق اوسط میں ایک نیا نظام قائم کرے: U.S. dreams of helping build a new Middle East Order are frustrated by the realities of a troubled and troubling region (p. 30). ٹائم میگزین نے امریکہ کے شہروں میں ایک اوپین پول کرایا۔ اس کا ایک سوال یہ تھا کہ عراق کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، عراق سے امریکہ کی جنگ کس حد تک کامیاب رہی: Given the current events in Iraq, how successful was the war with Iraq? اس سوال کے جواب میں سات فیصد امریکیوں نے کہا کہ (not at all) یعنی جنگ کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ ۴۶ فیصد لوگوں نے کہا کہ (only partly) یعنی یہ جنگ صرف جزئی طور پر کامیاب ہوئی (صفحہ ۳۱) اس جنگ میں امریکہ کا اصل نشانہ صدام حسین تھا۔ اور ساری تخریب کے باوجود، وہ بدستور اپنی کرسی پر باقی ہے۔ اپنی جنگی کارروائی کے آخر میں پہنچ کر امریکہ کو یہ مسئلہ پریشان کر رہا ہے کہ اگر وہ مزید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page