حفاظت کی صورتیں
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
کارروائی کر کے صدام حسین کا خاتمہ کر دے تو موجودہ حالات میں اس کا الثانی نتیجہ نکلے گا۔ کیوں کہ صدام کے بعد عراق میں شیعہ قیادت ابھر آئے گی۔ اس کے بعد ایران کا اثر اس علاقہ میں بہت بڑھ جائے گا۔ ایران، امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ہے، اور ایران کا بڑھنا، امریکہ کے لئے، چھوٹے دشمن کو مار کر بڑے دشمن کو زندہ رکھنے کے ہم معنی ہے۔ یہ تشدد کے طریقہ کی بے ابری ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کا جو پر امن طریقہ ہے وہ کوئی نئی پیچیدگی پیدا کئے بغیر مسئلہ کو حل کرتا ہے، جب کہ دوسرے طریقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مسئلہ کو حل کرنے کے نام پر مزید شدید تر مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔ داخلی کمی کا مسئلہ مذکورہ قرآنی تشخیص کے مطابق، اس وقت کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ بیرونی خطروں اور سازشوں کا انکشاف کیا جائے۔ اس کے، بجائے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ملت کے افراد میں خشیت الہی کی روح پیدا کی جائے۔ تعلیم و تربیت کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے مسلمانوں کو نفسیاتی اعتبار سے اس مقام پر لایا جائے جہاں وہ، قرآن کے الفاظ میں، فلا تخشوه و اخشونی کا مصداق بن جائیں۔ وہ خشیت غیر خدا پر کھڑے ہونے کے بجائے خشیت خدا پر کھڑے ہو جائیں۔ اسی کے ذریعہ پہلے بھی مسلمانوں کا مسئلہ حل ہوا تھا اور اسی کے ذریعہ آج بھی ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے (لن يصلح آخر هذه الامة الا بما صلح به اولها، امام مالک) حقیقت یہ ہے کہ خلیج کے المیہ نے عرب قومیت یا صلیبی اور صہیونی جیسے خارجی خطروں کو بے نقاب نہیں کیا ہے۔ بلکہ خود ملت مسلمہ کی اس داخلی کمی کو بے نقاب کیا ہے کہ وہ اپنے اصل مقام سے ہٹ گئی ہے۔ اس کو حقیقہ خشیت الہی کے اوپر کھڑا ہونا چاہئے، مگر عملاً آج وہ اس سے دور ہے۔ یہ دوری یہاں تک پہنچی ہے کہ اس کے علماء تک اس سے واقف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علما اور دانشور اس کو خوف اغیار کے خطر کی آگاہی دے رہے ہیں۔ ایسا کوئی نہیں جو اس کو خدا سے بے خوفی کے خطرہ سے متنبہ کرنے کا کام انجام دے رہا ہو۔ موجودہ زمانہ میں عالمی سطح پر جو تحریکیں اٹھیں، مثلاً ڈیمو کریسی، سوشلزم وغیرہ، ان سب کا زور خارجی سسٹم کو بدلنے پر تھا، فرد کے اندر انقلاب لانا، ان میں سے کسی کا نشانہ نہیں تھا۔ اسی سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader