حفاظت کی صورتیں
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کی وہ تمام تحریکیں بھی مت اثر ہو گئیں جن کے مجموعہ کو آجکل "صحوہ اسلامیہ" کہا جاتا ہے۔ نحوہ اسلامیہ کے تحت مسلمانوں کی جو انقلابی تحریکیں ساری دنیا میں چل رہی ہیں، ان سب نے خارجی نظام کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ داخلی انقلاب ان میں سے کسی کا نشانہ نہیں۔ یہی خاص کمزوری ہے جس کی بنا پر ہم آج یہ صورت حال دیکھ رہے ہیں کہ طوفان خیز اسلامی سرگرمیوں کے باوجود نتیجہ بالکل صفر ہے۔ کیوں کہ نتیجہ خشیت خدا پر نکلتا ہے نہ کہ خشیت غیر خدا پر۔ پریس کا المیہ ذہنی بگاڑ کی جس خرابی سے آج ہم دوچار ہیں، اس کو اتنا زیادہ عام کرنے میں سب سے زیادہ دخل پریس کا ہے۔ پریس کا دور اللہ تعالی کی ایک رحمت تھا۔ مگر مسلمانوں نے اپنی نادانی سے اس کو اپنے لئے ایک زحمت بنا لیا۔ بیسویں صدی میں جب پریس کا دور آیا تو تیز اندازہ نہ تھا جب کہ مسلمان ساری دنیا میں خارجی قوموں کے مقابلہ میں مغلوبیت کا شکار ہو رہے تھے۔ اس وقتی سبب کے تحت مسلم پریس کا رخ "خارجی خطرہ" کی طرف ہو گیا۔ نہ صرف اخبارات و رسائل بلکہ کتابیں بھی جو اس دور میں چھاپی گئیں وہ بھی اسی کے زیر اثر خارجی تفکیر کی نمائندگی کرنے والی تھیں۔ داخلی تفکیر جو حقیقی اسلامی تفکیر ہے، اس کی نمائندگی دور پریس میں کم از کم مؤثر انداز میں بالکل نہ ہو سکی۔ اس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑی برائی ساری مسلم دنیا پر مسلط ہے۔ وہ یہ کہ خارجی تفکیر کے حق میں علمی فضا پوری مسلم دنیا میں بخوبی طور پر پائی جاتی ہے، مگر داخلی تفکیر کے حق میں غلام دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ چنانچہ خارجی عمل کو لوگ بڑا اور اہم کام سمجھتے ہیں اور داخلی عمل کو چھوٹا اور غیر اہم کام۔ مثال کے طور پر آج جب ایک آدمی جہاد و قتال کی بات کرتا ہے تو مسلمان اس کی اہمیت کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ کیوں کہ پچھلے سو سال کے اندر مسلم پریس اور مسلم پلیٹ فارم سے جہاد و قتال کو مبالغہ آمیز حد تک گلوریفائی کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اگر مسلمانوں کے سامنے صبر اور اعراض کی بات کہی جائے تو اس کی اصولی اہمیت ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ وہ صبر و اعراض کی روش کو بزدلی قرار دے کر اسے نظر انداز کر دیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پریس کی سو سال کی مدت میں کوئی بھی قابل ذکر مسلمان نہیں اٹھا جو اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader