خاندانی زندگی
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
پالیسی گھر کے باہر کی زندگی کے لیے بھی بہترین ہے اور گھر کے اندر کی زندگی کے لیے بھی بہترین۔ ایک دانش مند خاتون مہاراشٹر (انڈیا) کے ایک خاندان کا واقعہ میرے علم میں آیا۔ ایک لڑکی کی شادی اُس کی اپنی پسند کے مطابق، ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ دونوں ایک ساتھ رہنے لگے۔ اُن کے یہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا، لیکن جلد ہی دونوں میں اختلافات شروع ہوگیے۔ بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ لڑکی اپنے شوہر سے خفا ہو کر اپنے میکے میں اپنی ماں کے پاس چلی گئی۔ اور ماں سے اپنے شوہر کے خلاف شکایتی باتیں بتانے لگی۔ ماں نے سننے کے بعد کہا کہ شادی دو بار نہیں کی جاتی۔ یا تو تم اپنے شوہر سے نباہ کرو یا زہر کھا کر مرجاؤ۔ لڑکی کے لیے اپنی ماں کا یہ جواب اُس کی اُمیدوں کے سراسر خلاف تھا۔ اِس جواب کو سن کر وہ رونے لگی اور چند دن تک وہاں اسی حال میں رہی۔ اس کی ماں نے کہا کہ تم چاہے روؤ یا چلاؤ، میں نے اپنا جواب تم کو بتا دیا۔ میرا جواب بدلنے والا نہیں۔ ماں کا جواب لڑکی کے لیے ایک دھماکے سے کم نہ تھا، لیکن اس دھماکہ خیز جواب نے لڑکی کے اندر نئی سوچ پیدا کر دی۔ اسی دوران لڑکی کو راقم الحروف کی کتاب ’’رازِ حیات‘‘ (صفحات: 292) مل گئی۔ اس کتاب کو اس نے پڑھا۔ کتاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader