خاندانی زندگی
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
کو پڑھنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں نے جو کچھ کہا تھا، وہی اس معاملے میں صحیح بات ہے۔ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے۔ اب میرے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب (option) نہیں ہے۔ اس طرح وہ لڑکی چند دن سوچتی رہی۔ آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے شوہر کے پاس واپس چلا جانا چاہیے۔ چناں چہ وہ کسی شرط کے بغیر اپنے شوہر کے پاس چلی گئی اور وہاں رہنے لگی۔ میں نے خود اپنے ایک سفر کے دوران دیکھا ہے کہ دونوں میاں اور بیوی اب خوشی سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے کامیاب رفیق حیات بنے ہوئے ہیں ۔ اختلاف کا معاملہ ربڑ کی مانند ہے ۔ آپ چاہیں تو اس کو کھینچ کر بڑھا دیں اور چاہیں تو اس کو نہ بڑھائیں اور اس کو اپنی فطری حالت پر رہنے دیں۔ میکے کے تصور میں جینا مشرقی خواتین میں ایک مزاج بہت عام ہے۔ نکاح کے بعد وہ اپنی سُسرال آ جاتی ہیں، لیکن نفسیاتی اعتبار سے بدستور وہ اپنے میکے میں جیتی رہتی ہیں۔ جسمانی اعتبار سے وہ سسرال میں ہوتی ہیں، لیکن ذہنی اعتبار سے وہ بدستور اپنے میکے کی یادوں میں گم رہتی ہیں۔ خواتین کا یہ مزاج ایک غیر حقیقی مزاج ہے۔ اس غیر حقیقی مزاج کی بھاری قیمت اُن کو یہ دینی پڑتی ہے کہ وہ اپنی سسرال میں غیر ضروری طور پر پریشان رہیں، ان کو کبھی سکون کی زندگی حاصل نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader