میکے کے تصور میں جینا
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
خواتین کے اندر اس غیر حقیقی مزاج کی اصل ذمے داری اُن کے والدین پر ہے۔ والدین اپنی نام نہاد محبت کی بنا پر ایسی باتیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بیٹی کوئی زندگی کا شعور حاصل نہیں ہوتا۔ والدین اپنی بیٹی کے ساتھ یہ معاملہ محبت کے نام پر کرتے ہیں، لیکن انجام کے اعتبار سے وہ دشمنی ہوتا ہے۔ والدین تو کچھ دنوں کے بعد اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، لیکن اپنی بیٹی کو وہ ہمیشہ کے لیے ایک غیر حقیقی مسئلے میں مبتلا کر کے چھوڑ جاتے ہیں۔ مجھے ایک باپ کا حال معلوم ہے۔ نکاح کے بعد جب انھوں نے اپنی بیٹی کو رخصت کیا تو انھوں نے اپنی بیٹی سے کہہ دیا کہ جہاں تم جارہی ہو، وہی اب تمھارا گھر ہے۔ وہیں کے ماں باپ، تمھارے ماں باپ ہیں۔ ہم تمھارے لیے دعا کرتے رہیں گے، لیکن اس حقیقت کو سمجھ لو کہ اب تمھارا گھر بھی بدل چکا ہے اور تمھارے ماں باپ بھی۔ بیٹی کے لیے اپنے والد کی یہ نصیحت بہت مفید ثابت ہوئی۔ سسرال پہنچتے ہی انھوں نے سسرال کو اپنا گھر بنا لیا۔ اس کے بعد اُن کو زندگی کی وہ تمام خوشیاں اپنی سسرال میں مل گئیں جو اُنھیں اس سے پہلے اپنے میکے میں حاصل تھیں ۔ زندگی میں کامیابی کا راز حقیقت پسندی ہے۔ اسی طرح زندگی کے تمام مسائل کا سبب غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ جو عورت یا مرد اس راز کو سمجھ لیں، وہ یقینی طور پر اپنی زندگی کو خوش گوار بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader