Urdu book · خاندانی زندگی

غیر فطری تمنا

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر فطری تمنا مشہور ہندوستانی سنگر محمد رفیع (وفات: 1980) کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع نے جب اس کو گایا تو وہ شدتِ تاثر سے روپڑے۔ اس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے: بابُل کی دعائیں لیتی جا جا، تجھ کو سُکھی سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آۓ سسرال میں اتنا پیار ملے یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اس طرح سکھ اور پیار نہیں مل سکتا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا، زوجین کے ساتھ نا انصافی ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں دونوں کے اندر غیر حقیقت پسندانہ ذہن بنتا ہے۔ اور غیر حقیقت پسندانہ ذہن کے ساتھ اس دنیا میں کامیاب ازدواجی زندگی گزارنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس غیر فطری معیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین اور ان کی بیٹی دونوں ہمیشہ اس احساس میں جیتے ہیں کہ ان کی لڑکی کی شادی غلط ہوگئی۔ دونوں اسی منفی احساس میں جیتے ہیں اور اسی منفی احساس میں مرجاتے ہیں۔ اگر لوگ زندگی کی حقیقت کو جانیں تو والدین اپنی بیٹی کے بارے میں غیر فطری تمنا کرنے کے بجائے، اُس کو نئے دورِ حیات کے لیے تیار کریں اور خود لڑکی کی جب نئے حالات میں پہنچے تو وہ اس کو مثبت ذہن کے ساتھ لے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page