خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم،روزگار اور سیاست کے میدان میں عورتوں کو وہی مواقع ملنے چاہییں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ایک ہی اخلاقی معیار ہونا چاہیے جو دونوں صنفوں پر منطبق کیا جائے۔اس بات کو اتنے زور و شور کے ساتھ اٹھایا گیا کہ ہر طرف اس کا غلغلہ برپا ہو گیا۔ مرد اور عورت دونوں اس میں یکساں طور پر شریک تھے۔حتی کہ عورت اور مرد کے درمیان نامر بربری کی بات کرنا پس ماندگی کی علامت قرار پایا۔بیسویں صدی کے آغاز تک یہ فکر ساری دنیا میں چھا چکا تھا۔اب اسی کے مطابق قوانین بنائے گئے۔اسی کے مطابق ہر شعبہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے کھول دیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر عملًا یہ تجربہ سراسر ناکام ثابت ہوا ہے۔تقریبًا دو سو سالہ جدوجہد کے بعد بھی اب تک عورت کو مرد کے برابر کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔عورت آج بھی تمام شعبۂ حیات میں اسی طرح پیچھے ہے جس طرح وہ آزادی نسواں کی تحریک سے پہلے پیچھے تھی۔اس تحریک کا عملی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ عورت گھر سے باہر آ گئی۔وہ ہر جگہ مردوں کے ساتھ چلتی پھرتی نظر آنے لگی۔عورت نے اپنی نسوانیت کھودی مگر اس کی قیمت میں اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کے لیے اس نے اپنی نسوانیت کھوئی تھی۔یعنی زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے برابر مقام۔ آزادی نسواں کی تحریک کی اس مکمل ناکامی نے دوبارہ لوگوں کو اس مسئلے کی تحقیق پر آمادہ کیا۔ساری دنیا میں خالص سائنسی انداز میں اس کا مطالعہ شروع ہو گیا۔آخر کار یہ ثابت ہوا کہ عورت اور مرد کے درمیان تخلیقی فرق ہے۔یہی تخلیقی فرق وہ اصل سبب ہے جس کی بنا پر عورت کو زندگی کے شعبوں میں مرد کے برابر درجہ نہ مل سکا۔عورت کے بارے میں دینی نقطۂ نظر کو چھوٹے فلسفوں نے مشتبہ بتایا تھا،سائننس کے حقائق نے دوبارہ اس کو ثابت شدہ بنا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ عورت اور مرد کے بارے میں دینی نقطۂ نظر ہی صحیح نقطۂ نظر ہے،اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ آج بھی لوگ اسی پرانی بات کو دہراتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader