خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ آج بھی اسلام پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس نے عورت کو کم تر درجہ دیا ہے۔ ہندوستان میں حکومت کے خرچ پر یہ اسکیم شروع کی گئی ہے کہ مجاہدینِ آزادی (freedom fighters) کی آوازوں کو ریکارڈ کر لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے خیالات کو ان کی اپنی آواز میں سن سکیں۔ اس سلسلہ میں مسٹر ایس ایم جوشی کے انٹرویو کا خلاصہ اخبارات میں آیا ہے جن کی عمر ریکارڈنگ کے وقت 72 سال ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک اخبار (ٹائمز آف انڈیا، 6 اپریل 1976) کے الفاظ میں یہ تھی: "The Shariat of the Muslims and the Manusmriti of the Hindus—followed by both the communities for centuries—were equally and socially reactionary.” مسلمانوں کی شریعت اور ہندوؤں کی منوسمرتی جس کو دونوں فرقے صدیوں سے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یکساں طور پر اور سماجی طور پر رجعت پسند ہیں۔ اس طرح کی باتیں جو آج بھی بڑے پیمانہ پر کہی جارہی ہیں، ان پر جھنجھلانے کے بجائے ہمیں ان کے سبب پر غور کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے فرق کے بارے میں جدید نظریہ ابھی تک صرف علمی تحقیق ہے، وہ ابھی تک فکری انقلاب نہ بن سکا۔ اس دنیا کا قاعدہ ہے کہ کوئی نقطہ نظر خواہ وہ کتنا ہی مدلل ہو، وہ لوگوں کے درمیان اس وقت تک عمومی قبولیت حاصل نہیں کرتا جب تک اس کو فکری انقلاب کا درجہ نہ دے دیا جائے۔ پچھلے زمانے میں جو انبیاء آئے۔ ان میں سے ہر نبی توحید کو دلائل کے اعتبار سے ثابت شدہ بناتا رہا۔ اس کے باوجود یہ ممکن نہیں ہوا کہ شرک کا خاتمہ ہو اور توحید کو عمومی غلبہ حاصل ہوجائے۔ یہ دوسرا کام صرف اس وقت ہوا جب کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader