Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

ابتدائی تعلیم میں 85 فی صد ٹیچر خواتین ہیں۔ مگر ان اسکولوں کی پرنسپل صرف 21 فی صد عورتیں ہیں۔ ہائی اسکول میں خاتون پرنسپلوں کا تناسب صرف 3 فی صد ہے۔ اور اگر ایک عورت کالج کی صدر بننا چاہے تو اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے نن بننا چاہیے۔ 1970 میں کالج اور یونیورسٹی کے شعبوں میں عورتوں کی تعداد 20 فی صد تھی مگر ان میں صرف 9 فی صد پروفیسر تھیں۔ عورتوں کی تنخواہ بھی مردوں کے مقابلہ میں عام طور پر کم ہوتی ہے۔ (45) اکثر نوجوانوں کا یہ خیال ہے کہ عورتیں بے دماغ رفیق ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہیں کہ مردوں کی ضروریات پوری کریں۔ ایک خاتون نے کہا ”مردوں نے ابھی تک نہیں سیکھا کہ وہ عورتوں کو ذہنی اعتبار سے اپنا مساوی سمجھیں۔ “(46) اکثر خواتین کا خیال ہے کہ ایجوکیشن موجودہ شکل میں بے معنی ہے۔ اگر کو ایجوکیشن (co-education) کو ایکول بنانا ہے تو یونیورسٹیوں میں طلبہ اور طالبات کی تعداد کو مساوی بنانا ہوگا۔ جو فی الحال ایک امکان بعید معلوم ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن کے کارکنوں کی تعداد تقریباً 4500 ہے۔ ان میں تخمینی طور پر سات میں سے دو عورتیں ہیں۔ فلم کے شعبہ میں نسبتاً عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مثلاً ایک فلمی ادارہ کے 1000 ممبروں میں سے 90 عورتیں ہیں، مگر یہاں بھی بڑے بڑے عہدے مردوں کو حاصل ہیں۔ پروڈیوسر اور ڈائرکٹر تو بہت ہی کم عورتیں ہیں۔ (صفحہ 48) امریکی سپریم کورٹ کی عمارت پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہے: قانون کے تحت یکساں انصاف۔ مگر امریکی عورت پر یہ الفاظ مشکل سے چسپاں ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں کوئی خاتون جج نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ سپریم کورٹ کے 9 ججوں میں سے صرف ایک جج کے یہاں خاتون کلرک ہے۔ فیڈرل اپیل کورٹ کے 97 ججوں میں صرف ایک خاتون جج ہے۔ فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے 402 ججوں میں چار کے سوا سب مرد ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page