Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

میدان ہے۔ پبلک ہیلتھ فزیشین میں وہ 26 فی صد ہیں جن کی آمدنی دیگر ڈاکٹروں کے مقابلہ میں صرف اوسط درجہ کی ہوتی ہے۔ مگر اب خاتون ڈاکٹروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دس سال پہلے 8300 میڈیکل طلبہ میں خواتین کی تعداد 600 یعنی 7 فی صد تھی۔ 1968 میں ان کی تعد 9 فی صد ہوگئی۔ (صفحہ 43) عورت مرد کے مقابلہ میں جنسی قیدی زیادہ ہے۔ اس کو جبری مادریت اور نا مطلوب حمل کا شکار ہونا پڑتا ہے اور یہ چیز اس کی ساری آزادیوں کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ جدید میڈیکل سائنس حیاتیاتی بندھن سے اس کو نکالنا چاہتی ہے اور بہت کچھ کامیاب بھی ہوئی ہے۔ مگر مانع حمل گولیوں کے دیگر اثرات کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔ اس کے علاوہ اب بھی دسیوں ہزار غیر مطلوب حمل رہ جاتے ہیں جن کے لیے اسقاط کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ امریکہ کی 16 ریاستوں نے اسقاط کے معاملہ میں کسی حد تک عورت کو قانونی آزادی دے دی ہے۔ اگر چہ ہر ریاست کے قانون میں کچھ نہ کچھ فرق ہے۔ تاہم شخصی اختیار کا حق ہر ایک نے تسلیم کیا ہے۔ (صفحہ 44) امریکہ میں خواتین کے نصاب بنائے گئے ہیں اور ان کے تحت ادارے قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد ہے عورتوں کے شعور کو اٹھانا (consciousness-raising)۔ 1970 میں ہائی اسکول سے فارغ ہونے والے طلبہ میں لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد برابر تھی۔ دونوں تقریباً 50 فی صد مگر لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں نے بہت کم آئندہ تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لیا۔ (59 فی صد لڑکے کے 41 فی صد لڑکیاں) اسی طرح عورتیں مردوں کے مقابلہ میں نسبتاً کم وظائف اور مالی امداد حاصل کر پاتی ہیں۔ مردوں کے لیے سالانہ 760 ملین ڈالر اور عورتوں کے لیے 518 ملین ڈالر۔ اسکول کی تعلیم کے آگے یہ فرق اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹریٹ کے مرحلہ میں پہنچ کر مالی امداد میں عورتوں کا حصہ صرف 13 فی صدر رہ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page