Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

پورے امریکہ میں تمام ججوں کی تعداد تقریبا بیس ہزار ہے۔ ان میں 200 کے قریب عورتیں ہیں۔ کوئی اٹارنی جنرل خاتون نہیں۔ فیڈرل سروس میں 93 ڈسٹرکٹ اٹارنی ہیں جو سب کے سب مرد ہیں۔ قانون کے پیشہ میں نسبتاً عورتیں کافی ہیں۔ جو عورتیں قانون کی تعلیم حاصل کرتی ہیں، ان کے 17 سالہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ قانون داں عورتوں کی 84 فی صد تعداد پرائیویٹ پریکٹس کرتی ہے۔ مگر خاتون وکلاء کی 12 فی صد سے کم تعداد ایسی ہے جس کی آمدنی 20000 ڈالر سے اوپر ہے جب کہ مرد وکلاء میں ان کی تعداد 50 فی صد ہے۔ 325000 وکیلوں میں خواتین کی تعداد 9000 ہے، جو 2 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔ امریکن بار ایسوسی ایشن میں آج تک کوئی خاتون صدر نہ ہوسکی۔ (صفحہ 50) نفاذ قانون کے دائرہ میں عورتیں زیادہ تر زیر نفاذ ہیں، نہ کہ نفاذ کرنے والی۔ پولیس میں خواتین نیچے درجہ کی ملازمتوں میں ایک فی صد سے کچھ زیادہ ہیں۔ گرٹروڈ شمل نیویارک کی پہلی پولیس کیپٹن ہے۔ ”کیا وہ کسی عورت کے پولیس کمشنر بننے کی امید کرسکتی ہے۔“ اس سے پوچھا گیا ۔ ”صرف اس وقت جب کہ نیویارک میں پہلی خاتون میئر مقرر ہوگی۔“ اس کا جواب تھا۔ امریکی عورت باہر کی تمام سرگرمیوں میں حصہ دار بن رہی ہے۔ وہ اپنا اکاؤنٹ تک الگ رکھتی ہے۔ مگر باہر مردوں کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جب وہ گھر لوٹتی ہے تو یہاں دوسری ذمہ داریاں اس کے استقبال کے لیے موجود رہتی ہیں۔ اسے اپنے بچوں سے محبت ہے اور اگرچہ یہ اکثر اس کے لیے تکلیف دہ گھونٹ ثابت ہوتا ہے مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں کہ بچوں کی دیکھ بھال کی اکثر ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ دے۔ اس کو اپنے شوہر سے بھی محبت ہے، وہ ان کاموں کو کرنے سے انکار کی ہمت نہیں پاتی۔ جو عام طور پر عورتوں کے کام سمجھے جاتے ہیں خواہ شادی کے وقت اس معاملہ میں آزادی کا قول و قرار کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اس دہری ذمہ داری کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کو سخت احساس ستاتا رہتا ہے کہ وہ کسی غلطی کی شکار ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page