Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

آرٹ میں عورتوں کا بڑا حصہ ہو سکتا ہے۔ مگر آرٹ کی تاریخ میں جتنے نمایاں نام ہیں وہ سب مردوں کے ہیں۔ آخر خواتین آرٹسٹ کہاں گئیں۔ اس کا جواب تاریخ کے پاس خاموشی ہے۔ آرٹ کے ایک مورخ کا کہنا ہے کہ کوئی بڑی خاتون آرٹسٹ پیدا ہی نہیں ہوئی ۔ (صفحہ 54) کھیل کا میدان بھی مردوں کا میدان ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دوڑ کے مقابلہ میں مرد عورتوں سے زیادہ تیز دوڑتے ہیں۔ عورتوں کی کامیابیاں زیادہ تر ان کھیلوں میں ہے جن میں عورتوں کا مقابلہ عورتوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً ٹینس وغیرہ مسنر کنگ اور مسز اسمٹھ نے کھیل کے میدان میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مگر انھوں نے بھی اب تک کے بہترین ایک سو مرد کھلاڑیوں کا مقابلہ نہیں کیا ہے۔ نیز ان دونوں عورتوں کو اپنی صنف کی وجہ سے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کو (اپنی مردانہ صفات باقی رکھنے کے لیے) اسقاط بھی کرانا پڑتا ہے۔ (95) بلی جین کا کہنا ہے کہ اگر میرے یہاں بچہ ہو گیا تو ”ماں“ بن جاؤں گی اور پھر مجھے کھیل کی دنیا کو چھوڑ دینا پڑے گا۔ تاہم ”میں اچھی ماں بننا پسند کرتی ہو“ اس نے کہا۔ دوسری خاتون کھلاڑی رابن شادی اور بچوں کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتی۔ رابن نے گھر پر اپنی دلچسپی کے لیے چوہے پال رکھے ہیں۔ وہ کہیں جاتی ہے تو بیگ میں اپنے تین چو ہے بھی رکھ لیتی ہے۔ 1968 کے بعد سے کھیل میں انعام پانے والی عورتوں کی تعداد بڑھی ہے۔ مگر اب بھی کامیاب کھلاڑی عورت کے مقابلہ میں کامیاب کھلاڑی مرد کو زیادہ انعام ملتا ہے۔ 776 ق م میں یونان میں پہلے کھیلوں کے مقابلہ میں عورتوں کے لیے دیکھنا بھی ممنوع تھا۔ 1896 میں انھیں چند کھیلوں میں شامل کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page