خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکی عورت آج اقتصادی میدان میں کافی سرگرم ہے۔ مگر فیڈرل سروے کے مطابق ہمہ وقتی کام میں عورت کی اجرت اوسطاً تین ڈالر ہے۔ جب کہ اسی کام میں مرد کو اوسطاً پانچ ڈالر دیے جاتے ہیں۔ اگر عورتوں کو مردوں کے برابر اجرت دی جائے تو اجرت کی مقدار 109 بلین ڈالر زیادہ ہو جائے (صفحہ (62)۔ اس سلسلے میں حکومت نے متعدد احکامات جاری کیے ہیں۔ اور عدالتوں نے فیصلے دیے ہیں کہ عورتوں کو مساوی اجرت دی جائے اور ان سے امتیازی نہ برتا جائے۔ ان میں ایسے فیصلے بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عورتوں سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور بھاری بوجھ نہ اٹھوائے جائیں۔ (یہ کہنا کہ عورتوں سے محنت کے کام نہ لیے جائیں گویا یہ تسلیم کرنا ہے کہ عورت صنف ضعیف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یکساں قسم کے کام میں اس کو مرد سے کم اجرت ملتی ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے قانون سازی کا ذریعہ اختیار کرنا عورت کے کیس کو رحم کا کیس بنا دیتا ہے۔ مترجم) ایک خاتون ہیلن میک لین نے کہا: امریکا نے جتنے مرد چاند پر بھیجے ہیں اس سے بھی کم عورتوں کو زمین میں انتظامی عہدوں پر رکھاہے۔ کیلی فورنیا کی ”پیصیفک گیس اینڈ الیکٹرک“ میں جو عورتیں ملازم ہیں، ان کی 94 فی صد تعداد کلرک اور سکریٹری ہے۔ مینہیٹن اوون پروڈکٹس (Manhattan's Avon Products) کے دس ہزار کارکنوں میں تقریباً نصف عورتیں ہیں۔ مگر اس نے صرف 14 عورتوں کو انتظامی عہدوں تک ترقی دی ہے۔ وائس پریذیڈنٹ یا اس سے اونچے عہدہ پر ایک بھی خاتون نہیں۔ امریکی عورتوں کا یہ حال بنکنگ، فائیننس، اسٹیل مائننگ اور ریل روڈ جیسے شعبوں میں ہے۔ دوسری طرف ایڈورٹائزنگ اور فیشن جیسے شعبوں میں انھیں کافی مواقع حاصل ہیں۔ بے شمار کمپنیاں ٹائپنگ کے کام کے لیے مردوں کے بجائے عورتوں کی مانگ کرتی ہیں۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader