خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کا تقرر زیادہ تر کلرک کے منصب پر ہوتا ہے جس میں تنخواہ ایک سوڈ الر فی ہفتہ سے آگے نہیں بڑھتی جو مردوں کی تنخواہ کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ نہ صرف عورتوں کی تنخواہیں مردوں سے کم ہیں بلکہ سیلینس مین شپ کی ٹریننگ کے دوران میں مردوں کو بڑی قیمت کی چیزوں کی فروخت کی تربیت دی جاتی ہے جب کہ عورتوں کو کم قیمت کی چیزوں کو بیچنا سکھایا جاتا ہے۔ مثلاً گریٹنگ کارڈ وغیرہ (صفحہ 63)۔ اسکول کی خاتون پنسپیل، لیبارٹری ور کر اور کمپیوٹر پروگرامر اسی سطح کے مردوں کے مقابلہ میں صرف 67 فی صد تنخواہ حاصل کرتی ہیں۔ دس ہزار ڈالرز یا اس سے زیادہ تنخواہ پانے والوں میں مردوں کا تناسب 40 فی صد ہے۔ جب کہ خاتون کارکنوں میں ان کی تعداد صرف 7 فی صد ہے (صفحہ 63) سان فرانسسکو کی ایک فرم لیوی اسٹر اس اینڈ کو میں 18 ہزار ملازم ہیں جن میں 85 فی صد عورتیں ہیں۔ مگر کمپنی نے جب ایک بار جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ عورتیں عام طور پر کم تنخواہ کے مناصب پر ہیں اور بڑے بڑے عہدے زیادہ تر مردوں کو حاصل ہیں، اس کے 572 مینجروں میں صرف 9 فی صد عورتیں ہیں۔ امریکا کے دولین سکریٹریوں میں تقریباً سب کی سب عورتیں ہیں۔ مگر بیشتر کم تنخواہ پانے والی ہیں۔ بعض شکایات کے جواب میں مارچ 1972 میں امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ آرڈر جاری کیا کہ سکریٹریوں کو فاضل مددگار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ۔ خاتون سکریٹریوں میں اس بات پر زیادہ سے زیادہ ناراضگی پیدا ہورہی ہے کہ وہ تفریح طبع کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ (صفحہ 66) دفتر کے مردان کو پیاری یا شیریں کہہ کر پکارتے ہیں۔ سکریٹری بیک وقت دو مصرف رکھتی ہے۔ وہ دفتر کی ایک ضرورت ہے اور اسی کے ساتھ وہ عہدیدار کے لیے تفریح طبع کا سامان ہے۔ اکثر عہدیدار اپنی سکریٹریوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ ’’ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader