Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ ‘‘کام کرتی ہیں، نہ کہ ’’ان کے لیے‘‘ کام کرتی ہیں۔ (صفحہ 66) امریکا کی کارکن خواتین زیادہ تر وہ خواتین ہیں، جن کے گھر اجڑ گئے۔ (صفحہ 66) مگر جب وہ کام کی تلاش میں نکلتی ہیں تو انھیں اس تلخ تجربہ سے سابقہ پڑتا ہے کہ انھیں صرف چھوٹے کام کے لائق سمجھا جاتا ہے۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں جو سال انھوں نے لگائے وہ سب بیکار گئے۔ بیسییوں ایسے نجی ادارے ہیں جو عورتوں کو روزگار کے قابل بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ مثلاً شکاگو کا ایک روٹری کلب ہے جو بے روزگار خاتون کو 350 ڈالر دیتا ہے تا کہ وہ اس سے ٹائپ رائٹر وغیرہ خرید کر اپنا کام شروع کر سکے۔ حتیٰ کہ زیادہ عمر کی خواتین کو مصنوعی دانت اور سننے کے آلات تک دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انٹرویو میں اچھی ثابت ہوسکیں۔ واشنگٹن کے ایک ادارہ نے 1965 سے اب تک 10 ہزار خواتین کو اس قسم کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ (صفحہ 67) تھیٹر کی دنیا میں بھی عورت کا یہی حال ہے۔ عورت مرد کے مقابلہ میں کمتر درجہ کا کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ ہنسے اور خوش کرے۔ اس کو برابری حاصل نہیں، وہ مرد کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی، اس کو مرد کے حفاظتی بازو کی ضرورت ہے۔ (صفحہ 67) کتابوں کی دنیا میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے۔ نیو یارک شہر، جو صنعتی مرکز ہے وہاں صرف ایک خاتون ہیں جو کسی بڑے پبلشنگ فرم کی صدر ہوں۔ بڑی فرموں کے کارپوریٹ افسر سب کے سب مرد ہیں۔ عورتیں زیادہ سے زیادہ پبلسٹی ڈائریکٹر کے عہدوں پر ہیں۔ نیو یارک کے بڑے پبلشر عام طور پر دو مردوں پر ایک عورت کو لیتے ہیں۔ بچوں کی کتابوں کے پروگرام میں زیادہ تر عورتیں پائی جاتی ہیں۔ امریکا کے افسانوی ادب کا بڑا حصہ عورتیں پیدا کرتی ہیں۔ مگر اکنامکس، پالٹیکس وغیرہ موضوعات پر ان کے کام بہت کم ہیں۔ (ٹائم میگزین 20 مارچ 1972)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page