خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا فیصلہ مغربی تہذیب کے مخصوص نظریات میں سے ایک نظریہ مرد اور عورت کی مساوات تھا۔ مغربی دنیا میں پچھلے سو سال سے اس نظریہ کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ مگر یہ تجربہ سراسر نا کام ثابت ہوا ہے کسی بھی شعبہ میں یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مرد اور عورت کو برابر کا درجہ دیا جائے۔ قانون کے اعتبار سے برابر کا درجہ پانے کے باوجود عملی طور پر دونوں سماج کے اندر برابر کا مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس فرق کے بارے میں ابتداً یہ کہا گیا کہ یہ فرق ماحول (Environment) کا پیدا کردہ ہے۔ مگر جدید تحقیقات اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔ مختلف شعبوں میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ یہ فرق حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر پیدائشی ہے، نہ کہ تاریخی۔ نیویارک کے نیوزویک (18 مئی 1981) میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں مختلف امریکی محققین کے نتائج تحقیق درج ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ عورت اور مرد کی بناوٹ کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مرد کا مسائل کو حل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہونا، عورتوں کا جذباتی طور پر سوچنا، لڑکیوں کے مقابلہ میں لڑکوں کا زیادہ بہادرانہ انداز سے کھیلنا، ریاضیات میں مردوں کا زیادہ برتر رہنا، یہ سب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض ماحول کا۔ محققین کا خیال ہے کہ قائدانہ خصوصیتیں (leadership capacities) مردوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ جدید تحقیقات لوگوں کو اس عقیدہ کی طرف لے جا رہی ہیں کہ سابقہ خیال کے برعکس، پرورش (Nurture) نہیں بلکہ فطرت (Nature) وہ اصل عامل ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader