Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے پہلے امریکا کے ایک اور ہفتہ وار میگزین ٹائم (20 مارچ 1976 ء) نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں 20 تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیا گیا کہ وہ ”جدید امریکا میں عورتوں کی حالت“ کا جائزہ لیں۔ انھوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا اور ہر شعبہ کے ماہرین سے مددلی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پر مذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنس کے تمام متعلقہ شعبوں کی تحقیق کے مطابق مرد جنس غالب (Dominant Sex) ہے۔ ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سوسالہ جدوجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ سوسال پہلے تھی۔ مرد اب بھی عملاً امریکا میں جنس برتر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظریہ کے مطابق، سماجی نہیں ہے بلکہ تمام تر حیاتیاتی اور نفسیاتی ہے۔ مغرب میں آزادی نسواں کی تحریک سوسالہ تجربہ کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے، نہ کہ سماج کا ظلم۔ اس لیے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف ایوجینکس کے ذریعہ رحم مادر میں جینٹک کوڈ کو بدل دیا جائے اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں اور مردوں کی برتری ختم ہو کر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے_ یہ تجویز ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص بطور خود یہ نظریہ قائم کرے کہ مچھلی اور بکری دونوں ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مچھلی کو بھی دودھ دینا چاہیے جس طرح بکری دودھ دیتی ہے۔ اور جب کوشش کے باوجود مچھلی دودھ نہ دے تو وہ کہے کہ ہم میڈیکل سائنس کے ذریعہ نئی قسم کی مچھلیاں پیدا کریں گے جو بکری کی مانند دودھ دینے لگیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page