خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت سے جنگ کسی ڈاکٹر کو ایک روز خیال آجاۓ کہ منہ کا مقام چہرہ پر نہیں بلکہ پیٹ پر ہونا چاہیے اور اس کے بعد وہ آپریشن کے ذریعہ منہ کو چہرہ سے ہٹا کر پیٹ پر منتقل کرنا شروع کر دے۔ تو دنیا اس کی بیوقوفی پر ہنسے گی۔ کیوں کہ فطرت نے کسی چیز کا جو مقام متعین کر دیا ہے وہاں سے اس کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ کر معاملہ کریں، نہ کہ خود ساختہ نظریہ کے تحت اشیاء کی ترتیب بدل کر ایک نیا نقشہ بنانے کی مہم شروع کر دیں۔ اسی تخیل پسندی کی ایک مثال عورت کا مسئلہ ہے۔ جدید تہذیب نے زندگی کا نیا نقشہ بنانا شروع کیا تو اس میں اس کا ایک نعرہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات ہونی چاہیے۔ اس خوشنما تخیل کو وجود میں لانے کے لیے خاندان اور معاشرت کا سارا ڈھانچہ الٹ پلٹ دیا گیا۔ مگر آخر میں جو چیز حاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت گھر سے باہر تو آگئی، مگر عملی زندگی میں وہ مرد کی ہم سر نہ ہو سکی۔ اس کی واحد وجہ تھی کہ یہاں فطرت نے انسانی تخیل کا سا تھا دیا۔ ایک روسی سائنس داں انٹون نملوف (Anton Nemilov) جو خواہش کی حد تک خود بھی عورت اور مرد میں کامل مساوات دیکھنا چاہتا ہے۔ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حیاتیات میں ہماری اس خواہش کے لیے بنیاد موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عملاً یہ چیز اب تک حاصل نہ ہوسکی۔ وہ سائنس کے تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظام تمدن میں محدود حقوق دیے جائیں تو کم سے کم آدمی اس کی تائید کریں گے۔ ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساوات مردوزن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader