Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کر دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی، جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں اس قدر غیر متعصبانہ اور فیضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے۔ “ (صفحہ 76) ”اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنیٰ درجہ کے ہیں، بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جما ہوا ہے۔ اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیک مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبہ سے گرا ہوا سمجھیں گی۔ بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنس داں، کسی مصنف، کسی طالب علم، کسی تاجر یا کسی صد فیصد کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلد یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں ۔ خواہ وہ کیسے ہی آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ضرور ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی چغلی کھا جائیں گی۔ “ (صفحہ 95-194) عورت کو مساوات کا درجہ نہ ملنا کوئی وقتی اور عملی خرابی نہیں بلکہ اس کی وجہ حیاتیات تک جاتی ہے۔ چنانچہ مصنف لکھتا ہے: ” اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت سے ٹکراتا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر یکساں بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ “ (Anton Nemilov, The Biological Tragedy of Woman (London, 1932).

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page