خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی نہیں ہوتا کہ وہ چیز عملاً حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ یقینی طور پر اس کی وجہ سے کئی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ فطرت نے کسی چیز کو جہاں رکھا ہے وہی اس کی اصل جگہ ہے۔ اور جب کسی چیز کو اس کے واقعی مقام سے ہٹایا جائے تو اس کے نتیجہ میں خرابی کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ یہی چیز عورت کے معاملہ میں ہوئی۔ عورت کو مرد کے مساوی بنانے کے لیے گھر سے باہر نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الواقع مرد کے مساوی ہو جاتی۔ البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں کے ساتھ کھڑا کر دینے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امڈ آیا۔ مذکورہ بالا مصنف لکھتا ہے: ”سچی بات تو یہ ہے کہ تمام عُمال (workers) میں صنفی انتشار (sexual anarchy) کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ یہ ایک نہایت پُر خطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزار ہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (sexual licentiousness) نہ صرف ناواقف لوگوں میں بلکہ طبقۂ عُمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں بھی پھیل گئی ہے۔“ (3-102) روسی مصنف نے یہ بات پچاس سال پہلے کہی تھی۔ مگر بعد کے سالوں نے اس کی مزید تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ آج مزید اضافے کے ساتھ جدید معاشرہ کے لیے صحیح ہیں وہ کسی اعتبار سے غلط ثابت نہیں ہوئے۔ جدید انسان نے عورت اور مرد کے قدیم تصور کو دقیانوسی قرار دیا۔ اور عورت اور مرد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader