خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقہ مقرر کیا ہے۔ نکاح ایک مرد اور عورت کو مستقل خاندانی تعلق میں جوڑتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے جڑ کر خود اپنے تقاضوں کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور سماج کے تقاضوں کی بھی۔ مغربی زندگی میں آزادی کے غلط تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ شادی کو بندھن خیال کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں جو آزادانہ زندگی پیدا ہوئی اس نے بے شمار خاندانی اور سماجی مسائل پیدا کر دیے ۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جس سے گریٹا گاربو جیسی عورتیں دو چار ہوتی ہیں۔ جوانی کی عمر میں جب کہ ان کے اندر مردوں کے لیے کشش ہوتی ہے وہ ہر جگہ رونق محفل بنی رہتی ہیں۔ ان کو روزانہ ایسے تفریحی پروگرام ملتے رہتے ہیں جن میں مصروف رہ کر وہ اپنے صبح و شام گزارتی رہیں۔ مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے اور جنس مخالف کے لیے اپنی نسوانی کشش کھودیتی ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کی تمام سرگرمیاں محض مصنوعی سرگرمیاں تھیں دوستیاں اور تعلقات اس طرح چھوٹ جاتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں درخت کے پتے۔ اس وقت انھیں معلوم ہوتا ہے کہ مستقل وفاداری کو بندھن سمجھنا ان کی کتنی بڑی غلطی تھی۔ ان پر یہ کھلتا ہے کہ اب تک وہ خوابوں کی دنیا میں جی رہی تھیں ۔ ان کی رونقوں سے بھری زندگی اچانک ایک سُونے گھر میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہوتی کہ کتے اور بلی پال کر دل بہلاتی رہیں۔ ان کا کوئی رفیق حیات نہیں ہوتا جو خوشی اور غم میں ان کا شریک ہو۔ ان کے سامنے اپنے بچوں کا وہ ”باغ“ نہیں ہوتا جن کی صورت میں ایک آدمی اپنی ختم ہوتی ہوئی زندگی کے تسلسل کو دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے۔ ان کے آس پاس کوئی ”اپنا“ نہیں ہوتا جس کو اپنی زندگی کا اثاثہ سونپ کر وہ سمجھیں کہ انھوں نے دنیا میں بے کار محنت نہیں کی ان کو گوشت پوست کی کوئی ایسی دنیا نظر نہیں آتی جس کو وہ اپنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader